عورتوں کے لیے رمل، مقام ابراہیم کے پیچھے نماز، اور تلبیہ بالجہر کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #264Urdu
Vol. 3كتاب الحجباب (۱): حج کی فرضیت، شرائط، ارکان وغیرہ کا بیان

Question

کیا اسلامی تاریخ میں کہیں مذکور ہے کہ عورتیں رمل نہیں کر سکتیں اور میلین اخضرین کے درمیان بھی دوڑ نہیں لگا سکتیں، اور مقام ابراہیم کے قریب نماز نہیں پڑھ سکتیں، نیز تلبیہ بھی زور سے نہیں پڑھ سکتیں کیا آپ ﷺ سے اس کی ممانعت منقول ہے، اور ازواج مطہرات نے یہ اعمال کیے ہیں یا نہیں؟

Answer

عورتوں کے لیے بعض چیزوں کی ممانعت ہیں ۔ مثلاً زور سے تلبیہ نہ پڑھیں، طواف میں اضطباع نہ کریں، طواف میں رمل نہ کریں، میلین اخضرین کے درمیان دوڑ نہ لگائیں، صفا پر نہ چڑھیں، ہجوم کے وقت حجر اسود کو بوسہ نہ دیں، نیز ہجوم کے وقت مقام ابراہیم کے قریب نماز بھی نہ پڑھیں۔
روایات کی روشنی میں ان مذکورہ اعمال کی ممانعت ثابت ہے، نیز حضرت ہاجرہ کا عمل مردوں کے لیے برقرار رکھا گیا، اور عورتوں کے لیے باقی نہیں رکھا گیا، کیوں کہ دوڑنا ان کا ایک وقتی عمل تھا، اور ضرورت کی وجہ سے تھا ہاں مردوں کے لیے اس کو بطورِ یادگار رکھا گیا۔
ملاحظہ ہو اعلاء السنن میں ہے:

عن ابن عمر رضي الله تعالى عنه قال: ليس على النساء رمل بالبيت، ولا بين الصفا والمروة. (أخرجه الدارقطني: ۱/۲۸۷، ورجاله ثقات).
وعن ابن عمر رضي الله تعالى عنه قال: لا تصعد المرأة على الصفا والمروة، ولا ترفع صوتها بالتلبية. (رواه الدارقطني: ۱/۲۸۷، ورجاله ثقات). (إعلاء السنن: ۱۵/۲۲۸، باب لا ترفع المرأة صوتها بالتلبية ولا ترمل ولا تسعي ولا تستلم الحجر الا ان تجد الموضع خالياً).

مسند الامام الشافعی میں ہے:

عن منبوذ بن أبي سليمان عن أمه أنها كانت عند عائشة رضي الله تعالى عنها زوج النبي ﷺ فدخلت عليها مولاة لها، فقالت لها: يا أم المؤمنين طفت بالبيت سبعاً، واستلمت الركن مرتين أو ثلاثاً فقالت لها عائشة: لا أجرك الله، لا أجرك الله، تدفعين الرجال، ألا كبرت الله ومررت. (مسند الإمام الشافعي: ۳٤۵).

مسند امام شافعی رحمه الله کے حاشیہ میں ہے:

قد فهمنا من الحديث السابق؛ أنه إذا اشتد الزحام على الحجر الأسود فلا داعي لانتظار الرجال ولتزاحمهم، وقد بين هذا الحديث أن النساء أولى بهذا الحكم وأنهن لا ينبغي لهن أن تزاحمن الرجال لما في ذلك من الإخلال بالأدب، ولذا أنكرت عائشة على مولاتها مدافعتها الرجال واستلام الركن ودعت بأن يحرمها الله الأجر، وقالت لها: ألا كبرت ومررت أي هذا الذي كان ينبغي لك. (حاشية مسند الإمام الشافعي: ۳٤۵، رقم الحاشية ۱
؎) ۔
نیز ملاحظہ ہو:
تحفة الفقهاء: ۲/٤۱٤. وغنية الناسك: ٤۹. ومعلم الحجاج: ۱۱۰).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.