یوم النحر کی رمی کے بعد دعاء کے لیے کھڑے ہونے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 3 #272Urdu
Vol. 3كتاب الحجباب (۱): حج کی فرضیت، شرائط، ارکان وغیرہ کا بیان

Question

جب پہلے دن یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی کرے تو دعا کے لیے الگ ہو کر کھڑا ہونا چاہیے یا نہیں؟

Answer

صورت مسئولہ میں دعا کے لیے کھڑا ہونا ثابت نہیں ہے اس لیے رمی کے بعد وہاں نہ ٹھہرے ۔
الدر المختار میں ہے:

فلا يقف بعد الثالثة ولا بعد رمي يوم النحر لأنه ليس بعده رمي. وفي الشامي (قوله فلا يقف بعد الثالثة) أي جمرة العقبة لأنها ليس بعدها رمي في كل يوم قال في اللباب والوقوف عند الأوليين سنة في الأيام كلها. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۵۲۱).

شرح اللباب میں ہے:

ولا يقف عندها في جميع أيام الرمي للدعاء. (شرح اللباب: ۲٦۹، بيروت).

غنیۃ الناسک میں ہے:

وإذا فرغ من الرمي لا يقف للدعاء عند هذه الجمرة (أي عقبة) في الأيام كلها بل ينصرف داعياً. (غنية الناسك في بغية المناسك: ص ۹۲، إدارة القرآن).

نیز ملاحظہ ہو: فتاوی قاضی خان: ۱/ ۲۹٦ علی ہامش الہندیۃ، و عمدۃ الفقہ: ٤/٤٤۹، و معلم الحجاج: ص ۱۷۲ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.