کثرتِ طواف کی افضلیت:
Question
کثرتِ طواف افضل ہے یا کثرتِ عمرہ؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں کثرتِ طواف افضل ہے، بشرطیکہ طواف میں عمرہ جتنا وقت صرف کرے ۔
ملاحظہ ہو شرح لباب میں ہے:
بقي الكلام في أن إكثار الطواف أفضل أم إكثار الاعتمار؟ والأظهر تفضيل الطواف لكونه مقصوداً بالذات ولمشروعيته في جميع الحالات ولكراهة بعض العلماء إكثارها في سنة. (شرح لباب المناسك: ۲۰۱، فصل فاذا فرغ من السعي، بيروت).
غنیۃ الناسک میں ہے:
والطواف أفضل من العمرة إذا شغل به مقدار زمن العمرة وتمامه في المنحة ورد المحتار وقد قيل سبع أسابيع من الأطوفة كعمرة. (غنية الناسك في بغية المناسك: ۷٤، فصل فيما ينبغي له الاعتناء بعد الفراغ من السعي أيام مقامه مكة).
وكذا في الشامي: ۲/۵۰۲، مطلب الصلاة أفضل من الطواف وهو افضل من العمرة، سعيد).
عمدۃ الفقہ میں ہے:
طواف بکثرت کرنا عمرے بکثرت کرنے سے افضل ہے کیوں کہ طواف ایسی عبادت ہے جو بالذات مقصود ہے اور یہ تمام حالات میں مشروع ہے جب کہ ایک سال میں کثرت سے عمرے کرنا بعض فقہاء کے نزدیک مکروہ ہے، اور جب علامہ قاضی ابراہیم بن ظہیرہ مکی سے دریافت کیا گیا کہ طواف افضل ہے یا عمرہ تو انہوں نے فرمایا ارجح یہ ہے کہ طواف کو عمرہ پر فضیلت اس وقت ہے جب کہ اتنا وقت طوافوں میں مشغول رہے جتنے وقت میں عمرہ ادا کرے ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/۳۰۵، مجددیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.