قارن کے طوافِ عمرہ اور طوافِ قدوم میں تداخل کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #294Urdu
Vol. 3كتاب الحجباب (۳): قران، تمتع اور افراد کا بیان

Question

اگر کوئی قارن طواف قدوم کی نیت طواف عمرہ میں کر لے تو کراہت ہو گی یا بلا کراہت جائز ہوگا؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں طوافِ عمرہ میں طوافِ قدوم کی نیت کرنا بلا کراہت جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن جابر رضي الله تعالى عنه أن رسول الله ﷺ قرن الحج والعمرة فطاف لهما طوافاً واحداً. (رواه الترمذي: ۱/۱۸۸).

تفسیر مظہری میں ہے:

إنه ﷺ لما قدم مكة طاف وسعي بين الصفا والمروة، ثم لم يقرب الكعبة بطوافه بها حتى رجع من عرفة، رواه البخاري، قلت: وذلك الطواف والسعي كان لعمرته وكفاه عن طواف القدوم لحجه. (التفسير المظهري: ۱/۲۳۰، بلوچستان).

فتح القدیر میں ہے:

وروى أحمد من حديث الهرماس بن زياد الباهلي أن رسول الله صلى عليه وسلم قرن في حجة الوداع بين الحج والعمرة، وروى البزار بإسناد صحيح إلى ابن أبي أو في قال: إنما جمع رسول الله ﷺ بين الحج والعمرة، لأنه علم أن لا يحج بعد عامه ذلك، وروى أحمد من حديث جابر رضي الله عنه "أن رسول الله ﷺ قرن الحج والعمرة فطاف لهما طوافاً واحداً. (فتح القدير: ۲/۵۲۳، باب القران، دار الفكر).

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے قران فرمایا تھا اور عمرہ اور طواف قدوم دونوں کے لیے ایک ہی طواف فرمایا تھا ۔
معارف السنن میں ہے:

قال شيخنا رحمه الله تعالى: ويمكن أن يقال: إن الطواف الأول يوم القدوم كان للعمرة وتداخل فيه طواف القدوم

قال الراقم: لا شك أن طواف القدوم تحية للبيت كتحية المسجد بالركعتين، ومن دخل المسجد وصلي السنة ونوي التحية فيها دخل صلاة التحية في السنة. (معارف السنن: ٦/۳٦۹، بحث طواف القارن، سعيد).

درس ترمذی میں ہے:
ان چار طوافوں میں سے حنفیہ کے نزدیک ایک طواف نہ کرنے کی گنجائش ہے، اور وہ اس طرح کہ طواف عمرہ ہی میں طواف قدوم کی نیت کر لے، تو الگ طواف قدوم کرنے کی ضرورت نہ ہو گی ۔ (درس ترمذی: ۳/۲۲۲، کراچی) ۔
معلم الحجاج میں ہے:
مسئلہ: وقوف سے پہلے اگر کسی نے نفل طواف کر لیا اور طواف قدوم کی نیت نہیں کی تو بھی طواف قدوم ہو گیا، طواف قدوم کی خاص طور سے نیت کرنا ضروری نہیں ۔ (معلم الحجاج: ۱٦۲، طواف قدوم کے احکام) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.