حنفی اور شافعی کے درمیان بوقتِ اختلاف مہر کا حکم:
Question
اگر شافعی مرد حنفی لڑکی سے نکاح کرے اور مہر مقرر کرنے میں اختلاف ہو تو مرد کا اعتبار ہے یا عورت کا؟
Answer
فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر عورت کا حق ہے، جو ملک بضع کے عوض میں اس کو ملتا ہے، لہذا بوقتِ اختلاف عورت کا اعتبار ہو گا۔ یعنی اگر شافعی مرد حنفی لڑکی سے شادی کرے تو ۱۰ درہم کی مقدار سے کم دینا صحیح نہ ہو گا۔
ملاحظہ ہو مبسوط میں ہے:
لأن المهر من خالص حقها فإنه بدل ما هو مملوك لها ألا تري أن الاستيفاء والإبراء إليها والتصرف فيه كيف شاءت. (المبسوط للسرخسي: ۵/۱٤).
بدائع الصنائع میں ہے:
ولنا أن المهر ملك المرأة وحقها لأنه بضعها وبضعها حقها وملكها والدليل عليه قوله عز وجل: ﴿وآتوا النساء صدقاتهن نحلة﴾ أضاف المهر إليها فدل أن المهر حقها وملكها. (بدائع الصنائع ۲/۵۸۳، سعيد).
وفي تبيين الحقائق: لأن المهر خالص حقها. (تبيين الحقائق ۵
؍
٤۰۸، إمدادية ملتان).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.