مولویوں پر مالِ زکوٰۃ کھا کر امورِ دینیہ میں سستی کرنے کا الزام:

15 min readFatwa Vol 3 #464Urdu
Vol. 3زكوة، صوم، حج اور نكاح سے متعلق متفرق مسائل:باب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

ایک مولوی صاحب نے بیان میں یوں کہا: اور خرابی یہ ہے کہ ہمارے مولوی اور طلبہ زکوٰۃ کا گندہ مال کھاتے ہیں، اس لیے دین کی خدمت میں سستی کرتے ہیں ۔ کیا اس طرح کہنا صحیح ہے کہ زکوٰۃ گندہ مال ہے؟
بينوا بالتفصيل توجروا بالأجر الجزيل.

Answer

بصورتِ مسئولہ اموالِ زکوٰۃ اصحابِ اموال کے حق میں میل، کچیل اور حرام اور فقراء و مساکین کے حق میں طیب، طاہر اور حلال اور پاکیزہ ہیں اور من جانب اللہ ان کا حق ہے ۔ مولوی صاحب کی یہ بات درست نہیں ہے ۔ زکوٰۃ کا مال فقراء کے حق میں گندہ نہیں ہے اس کی چند وجوہات درجِ ذیل ہیں:
(۱) اموالِ زکوٰۃ فقراء کا حق ہے، ملاحظہ فرمائیے قرآنِ کریم میں ہے:

﴿إنما الصدقات للفقراء والمساكين

الخ﴾. واللام في قوله: للفقراء، للملك وللاستحقاق. (تفسير المنار: ۱۰/٤۲۳).
قال الله تعالى: ﴿والذين في أموالهم حق معلوم﴾ هو الزكاة. (الجلالين: ۱/۷٦٦).
(وكذا في تفسير القرطبي: ۳۸/۳۸، واللباب في علوم الكتاب: ۱۹/۳۷، والكشاف: ٤/٦۱۳).

معلوم ہوا کہ زکوٰۃ فقیر، مسکین کا خاص حق ہے اور یہ انعام اللہ تعالی کی جانب سے ہے، بالفرض اگر زکوٰۃ کا مال گندہ اور خراب ہوتا تو اللہ تعالی گندے مال کو کیسے فقیر مسکین کا حق قرار دیتے؟
(۲) قرآنِ کریم میں صدقات کو اللہ تعالی نے ربا کے مقابلہ میں بیان فرمایا ہے اور ربا یقیناً حرام اور گندہ ہے تو اس کی ضد یقیناً حلال اور طیب ہوئی ۔
(۳) صدقہ کے بارے میں قرآن، حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالی خود لیتے ہیں ۔ اگر زکوٰۃ کا مال گندہ ہوتا تو اللہ تعالی لینے کی نسبت اپنی طرف نہ فرماتے ۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں ہے:
﴿ألم يعلموا أن الله هو يقبل التوبة ويأخذ الصدقات

الخ﴾. (التوبة: ۱۰٤).
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال أبو القاسم ﷺ: ما تصدق عبد بصدقة من كسب طيب ولا يقبل الله إلا طيباً ولا يصعد إلى السماء إلا طيب إلا كأنما يضعها في يد الرحمن فيربيها له كما يربي أحدكم فلوه وفصيله حتى أن اللقمة أو التمرة لتأتي يوم القيامة مثل الجبل العظيم. (أخرجه ابن حبان في صحيحه رقم: ۲۷۰، وقال الشيخ شعيب: إسناده صحيح).
وأيضاً أخرجه الإمام أحمد في مسند أحمد (رقم: ۹٤۲۳)، والحميدي في مسنده (رقم: ۱۱۵٤)، والإمام الشافعي في مسنده (رقم: ٦۰٦)، والبيهقي في الأسماء والصفات (رقم: ۸۵۸)، والدولابي في الكني والأسماء (۱۲).
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: من تصدق بعدل تمرة من كسب طيب ولا يقبل الله إلا الطيب وأن الله يتقبلها بيمينه ثم يربيها لصاحبه

الخ. (رواه البخاري، رقم: ۱٤۱۰، رقم: ۷٤۲۹).
وعنه قال: قال رسول الله ﷺ: ما تصدق أحد بصدقة من طيب ولا يقبل الله إلا الطيب إلا أخذها الرحمن بيمينه

الخ. (رواه مسلم، رقم: ۱۰۱٤).

(٤) زکوٰۃ و صدقہ کا مال گندہ ہوتا تو حضور ﷺ اپنے صحابہ کے لیے کیوں پسند فرماتے؟ جب کہ احادیث میں تصریح ہے کہ جب آپ سے زکوٰۃ، صدقہ طلب کیا گیا تو آپ نے عطا فرمایا ۔
ملاحظہ ہو روایت میں ہے:
عن زياد بن نعيم، أنه سمع زياد بن الحارث الصدائي يقول: أمرني رسول الله ﷺ علي قومي، فقلت: يا رسول الله، أعطني من صدقاتهم، ففعل وكتب لي بذلك كتاباً

الخ. قال أبو جعفر:

سأله من صدقة قومه، وهي زكاتهم فأعطاه منها

(شرح معاني الآثار، رقم: ۲۷۷۲).

اس روایت سے معلوم ہوا کہ امیر صاحب کو زکوٰۃ کا مال دیا ۔

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: كان رسول الله ﷺ إذا أتي بطعام سأل عنه أ هدية أم صدقة فإن قيل صدقة قال لا صحابه: كلوا ولم يأكل وإن قيل هدية ضرب بيده ﷺ فأكل معهم. (رواه البخاري، رقم: ۲۵۷٦).

(۵) فقہاء کرام نے جن صورتوں میں سوال کرنے کو ناجائز فرمایا ہے ان میں بھی طالبِ علم اور مجاہد کو اجازت دی ہے، بقول مولوی صاحب گندے مال سے سستی پیدا ہوتی ہے تو پھر مجاہد اور طالبِ علم کے لیے کیسے درست ہوا؟
قال العلامة الشامي في رد المحتار علي الدر المختار: ولا يحل أن يسأل من القوت من له قوت يومه بالفعل أو بالقوة كالصحيح المكتسب ويأثم معطيه إن علم بحاله لاعتنائه علي المحرم ولو سأل للكسوة أو لاشتغاله عن الكسب بالجهاد أو طلب العلم جاز لو محتاجاً. (فتاوى الشامي: ۲/۳۵۵، سعيد).
وأيضاً قال: ويكون طلب العلم مرخصاً لجواز سؤاله من الزكاة وغيرها وإن كان قادراً على الكسب إذ بدونه لا يحل له السؤال. (رد المحتار: ۲/۳٤۰، سعيد).

(٦) فقہاء کرام نے زکوٰۃ، صدقات کا بہترین مصرف علماء، صلحاء اور دینی کام مشغولین جو فقراء ہو قرار دیا ہے، تو کیا مولوی صاحب کے بیان کے مطابق گندے مال کے لیے فقط علماء رہ گئے تھے؟ پھر فقہاء نے علماء کا مرتبہ اتنا کم کر دیا؟

قال في البحر: لو نقلها إلى فقير في بلد آخر أورع وأصلح كما فعل معاذ رضي الله تعالى عنه لا يكره ولهذا قيل: التصدق على العالم الفقير أفضل كذا في المعراج. (البحر الرائق: ۲/۲٦۹، دار المعرفة). (وكذا في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص، باب المصرف، والدر المختار: ۲/۲۵٤، سعيد).

حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
غریب طلباء کے لیے اسلامی مدارس میں زکوٰۃ دینے میں دوگنا ثواب ہے، ایک ثواب تو زکوٰۃ کا، دوسرا ثواب اسلامی تعلیم کی اعانت کا ۔ (جواہر الفقہ: ۳/۲٤٤) ۔
ایک حدیث شریف سے اشکال اور اس کی وضاحت:
مولانا موصوف کے ذخیرۂ معلومات میں ایسی رائے (یعنی زکوٰۃ گندہ مال ہے اس سے سستی ہوتی ہے) کے اضافہ کی وجہ شاید مسلم شریف کی ایک حدیث ہے:
قال: إن الصدقة لا تنبغي لا ل محمد إنما هي أوساخ الناس

الخ. (رواه مسلم، رقم: ۱۰۷۲، باب ترك استعمال آل النبي على الصدقة).

اس حدیث کی مختصر وضاحت حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
کبھی کبھی ایک شیٔ کی مختلف نسبتیں ہوتی ہیں ایک نسبت سے وہ شیٔ اچھی ہوتی ہے دوسری نسبت سے بری جیسے کپڑا جب میت کا کفن ہو تو باعثِ وحشت ہے اور مزین بنا کر دولہن پر ہو تو قابل محبت ہے اسی طرح مالِ زکوٰۃ اغنیاء کے حق میں غسالہ اور اوساخ ہے اور فقیر کی طرف نسبت کرتے ہوے حلال طیب ہے ۔
يعني كون الصدقة أوساخ الناس ليس وصفاً ذاتياً بل هو وصف حكمي.

دوسری مثال: مالِ مسروقہ سارق کے لیے گندہ، خبیث اور حرام ہے اور مالک کے پاس پہنچ کر حلال پاکیزہ اور طیب ہے ۔
اسی طرح بیع فاسد میں مشتری اول کے پاس مال کی واپسی لازم ہے لیکن مشتری آگے بیع صحیح کر دے تو مشتری ثالث کے لیے حلال اور پاکیزہ ہے ۔ ایک ہی مال ایک کے پاس خراب اور دوسرے کے پاس اچھا اور بہتر ۔ خلاصہ یہ ہے کہ: اموالِ زکوٰۃ کے اندر دو پہلو ہیں:
(۱) الصدقة إنما هي أوساخ الأغنياء لأنها تطهير لا موالهم ونفوسهم. (۲) وهي نعمة الله العظمي علي عباده الفقراء لقضاء حاجاتهم.

پھر آل النبی ﷺ کی شرافت اور بزرگیت کے اظہار میں شریعت نے ان کے حق میں اوساخ الناس والا پہلو ذکر کیا، کیوں کہ شریعتِ مطہرہ نے ان کو خمس کی وجہ سے مستغنی کر دیا تھا ۔ جب کہ دوسری طرف شریعتِ مطہرہ نے اسی کو فقراء کی حاجات کے پورا ہونے کا وسیلہ بنا کران کے حق میں پاک صاف تسلیم کر لیا ۔
شیخ ابن العربی رحمه الله اس مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوے تحریر فرماتے ہیں:

فإن قيل: هذه أحاديث متعارضة رويتم في حديث آخر أنها أوساخ الناس وضرب النبي ﷺ القيء لها مثلاً فقال: العائد في صدقته كالكلب يعود في قيئه، ثم رويتم من طريق آخر: إن الصدقة لتقع في كف الرحمن قبل أن تقع في كف السائل، وكف الرحمن مقدس عن القيء والوسخ.
قلنا: هذا مهم من التعارض، وهو ميدان فات علماؤنا الاستباق به، والجواب عنه بديع، وذلك أن الباري تعالى بعث رسول الله ﷺ أفصح الخلق بأفصح الكلام فضرب الأمثال وصرف الأقوال وسلك في كل شعب من المعاني قدرة علي القول واستلطافاً للقلوب في جانبي الرغبة والرهبة اللتين انتظم بهما التكليف وارتبط بهما الثواب والعقاب، وبين الأحكام الشرعية التي بعث لا يضاحها، فإن المعاني العقلية معلومة لا تفتقر إلى بيانه، ولا تعرض هو أيضاً إليها وليست إلا أوصاف الشريعة من حسن أو قبح، أو حلال أو حرام، أو طاعة أو معصية بصفات لا عيان قائمة بها كالصفات الحسية من الألوان والأكوان، وإنما هي عبارة عن تعلق خطاب الشرع بالعين على وجه المدح، أو في سبيل الذم، فتختلف التسميات على هذه المسمىات بحسب اختلاف تعلق خطاب الشارع، وقد مهدنا ذلك في كتب الأصول، فإذا ثبت هذا فليس بممتنع وصف الشيء الواحد بضدين من أحكام الشرع.
فقد تكون العين الواحدة حلالاً حراماً في حالة واحدة في حق شخصين أو في حالين في حق شخص واحد.
فالصدقة طهرة للمال في حق صاحب المال وقيء إن رجعت إليه، ورزق حسن في يد المستحق إذا حصلت في يديه ولو بقيت في المال لغيرته وأخبثته، فإذا خرجت عنه، خرجت طاهرة في ذاتها فطهرته أي منعته من أن يخبث ببقائها فيه، فلا تقع في كف الرحمن إلا وهي طاهرة مطهرة، ولا تبقي عند الغني إلا وتكون خبيثة مخبثة، وضرب النبي ﷺ كف السائل مثلاً بكف الرحمن ترغيباً في العطاء، وحثاً على الصدقة

الخ. (كتاب القبس، لا بن العربي: ۱/ ٤۱۱).

نیز فقہ کا قاعدہ ہے کہ تبدیل ملک سے تبدیل عین ہو جاتی ہے، چنانچہ القواعد الفقہیہ میں ہے:

"تبدل سبب الملك قائم مقام تبدل الذات" والأصل في ذلك ما ورد صحيحاً في لحم أهدته بريرة للنبي ﷺ، فقيل له: إنه تصدق به علينا فقال: هو عليها صدقة ولنا هدية فأقام ﷺ تبدل سبب الملك من التصدق إلى الإهداء فيما هو محظور عليه وهو الصدقة مقام تبدل العين. (شرح القواعد للشيخ احمد الزرقا، ص۲۹۱).

مطلب یہ ہے فقیر کی ملک میں جانے سے پہلے میل کچیل والا ہوتا ہے لیکن فقیر کے پاس جانے کے بعد صاف اور پاک ہو جاتا ہے ۔
اشکال: اس پر اشکال ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کا میل کچیل تبدیل ملک سے ختم ہو جاتا ہے تو پھر آلِ محمد کے لیے بھی جائز ہونا چاہیے ہونا چاہیے کیوں کہ ان کی ملکیت میں آنے کے بعد پاک ہو جائے گا، پھر حرمت کے لیے اوساخ الناس ہونے کی علت بتانے کا کیا فائدہ؟
الجواب: یہ بات تو مسلم ہے کہ فقیر کے پاس آنے سے پاک ہوا لیکن لین دین تو اوساخ الناس کا ہوا اس وجہ سے آلِ محمد کو اس لین دین کی ذلتی سے بچایا گیا ہے، نیز حدیث شریف میں آتا ہے: "
اليد العليا خير من اليد السفلي".
اسی وجہ سے کوئی نادار زکوٰۃ سے اپنے آپ کو بچائے اور اپنے ہاتھ کی کمائی کھائے تو بہت بہتر ہے اور لے لے تو بھی بری بات نہیں ہے ۔
چنانچہ بہت سارے علماء نے زکوٰۃ کے اموال سے بچنے کی ترغیب دی ہے ۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدثِ دہلوی رحمه الله کی حجۃ اللہ البالغہ (۲/۸۱) ملاحظہ فرمائیے ۔
حدیث شریف کی دوسری تشریح:
اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اموالِ زکوٰۃ کو میل کچیل فرمایا، ناپاک اور نجس نہیں فرمایا، لہذا مسلم کی حدیث میں زکوٰۃ کی ناپاکی کی طرف اشارہ نہیں، بلکہ اس طرف اشارہ ہے کہ زکوٰۃ کا مال میل کچیل پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ضرورت مند استعمال کرے، مالدار اور غنی استعمال نہ کرے ۔
جیسے میلا کچیلا کپڑا پڑا ہو تو بغیر ضرورت کے لوگ استعمال نہیں کرتے، لیکن اگر کسی کو ضرورت پڑ جائے، مثلاً سفر میں ہے اور ایک کپڑا ناپاک ہو گیا اور دوسرے کپڑے نہیں ہیں تو وہی میلا کپڑا استعمال کرتے ہیں، اس وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے بنی ہاشم کے بارے میں فرمایا: بنی ہاشم میلا کچیلا مال استعمال نہ کریں، کیوں کہ ان کو ضرورت نہیں، اللہ تعالی نے ان کو اس کے بدلہ مالِ غنیمت کا خمس الخمس دیا ہے، اور آج کل چونکہ بنی ہاشم کو خمس الخمس نہیں ملتا، اس لیے بعض علماء فقرائے بنی ہاشم کے لیے زکوٰۃ کے جواز کے قائل ہیں ۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (باب ٤، مصارفِ زکوٰۃ کا بیان، مسئلہ: "بنی ہاشم اور سادات کو زکوٰۃ کی رقم دینے کا حکم) ۔
اشکال اور جواب:
اشکال: ہمارے بعض اکابر رحمه الله نے بھی تحریر فرمایا ہے کہ صدقات کے کھانوں سے دل سست ہو جاتا ہے، تو اس کا کیا مطلب ہے؟
الجواب: دراصل ان اکابر کی عبارت پر غور کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کی بنیاد دو مقولوں پر ہے (۱)
طعام المريض يمرض القلب (۲) طعام الميت يميت القلب
۔ لیکن یہ دونوں مقولے محل نظر ہیں، حدیث سے ثبوت درکار ہے اور وہ ندارد ہے بنا بریں ہمارے مسئلہ پر کوئی اثر مرتب نہ ہوگا، جب کہ صحیح روایات میں آتا ہے کہ مسجد نبوی میں صدقات کے کھجوروں کے خوشے لٹکائے جاتے تھے اور فقیر صحابہ جو مسجد میں مقیم تھے وہ اسی پر گزارہ فرما تے تھے اور مؤرخین نے ان کے اوصاف میں سے ایک صفت بیان فرمائی ہے:
رهبان بالليل وفرسان بالنهار
، تو صدقات کی وجہ سے صحابہ تو قیام اللیل، جہاد وغیرہ دینی خدمات سے سست نہیں ہوے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.