نبی علیہ الصلاۃ و السلام کے ناموں کی تحقیق:

6 min readFatwa Vol 1 #14Urdu
Vol. 1كتاب الإيمان والعقائدباب (۲): آنحضرت ﷺ کی سیرت و حالات کا بیان

Question

اللہ تعالی کے ۹۹ ناموں کی کا پیاں تقسیم کی جاتی ہیں اور پڑھی جاتی ہیں اسی طرح نبی کریم ﷺ کے ۹۹ ناموں کی کا پیاں تقسیم کی جاتی ہیں اور پڑھی جاتی ہیں کیا ۹۹ اسماء نبوی ﷺ کی کوئی اصل ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کچھ صفات تو صرف اللہ تعالی کے ساتھ مخصوص ہیں اور اب یہ نبی کریم ﷺ کے لیے بھی استعمال ہونے لگی ہیں، مثلاً الاول، الآخر وغیرہ، میری ناقص رائے میں یہ صحیح نہیں ہونا چاہیے یہ خاص اللہ کی صفات ہیں ۔ وضاحت فرمائیں؟

Answer

بخاری شریف میں ہے:
وقول الله تعالى: ﴿ما كان محمد أبا أحد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين﴾ وقوله تعالى: ﴿محمد رسول الله والذين معه أشداء﴾ وقوله تعالى: ﴿من بعدي اسمه أحمد﴾ حدثنا إبراهيم بن المنذر قال: قال رسول الله ﷺ: لي خمسة أسماء أناْ محمد وأحمد وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر وأناْ الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي وأناْ العاقب. (صحيح صحيح البخاري: ۱/ ۵۰۰، باب ما جاء في اسماء رسول الله ﷺ، ط: فيصل).
وأخرج الإمام البيهقي في "دلائل النبوة" بسنده عن أبي موسى قال: كان رسول الله ﷺ سمّي لنا نفسه، فقال: أناْ محمد وأحمد والحاشر والمقفى ونبي التوبة والملحمة، لفظ حديث الأعمش. وفي رواية له عن أبي صالح، قال: قال رسول الله ﷺ: أيها الناس: "إنما أنا رحمة مهداة"، هذا منقطع. وروي موصولاً. (دلائل النبوة: ۱/۱۵٦، ۱۵۷، باب ذكر أسماء رسول الله ﷺ، دار الكتب العلمية).
قال الإمام البيهقي: وزاد غيره من أهل العلم فقال: سماه الله تعالى في القرآن: رسولاً نبياً، أمّيا، وسماه: شاهداً، مبشراً، نذيراً، وداعياً إلى الله بإذنه، وسراجاً منيراً، وسماه: رؤوفاً رحيماً، وسماه: نذيراً مبيناً، وسماه: مذكراً، وجعله رحمة، ونعمة، وهادياً، وسماه: عبداً. صلى الله عليه وعلى آله وسلم كثيراً. (دلائل النبوة: ۱/۱٦۰، باب ذكر أسماء رسول الله ﷺ، دار الكتب العلمية).

عمدۃ القاری میں ہے:

قال أبو زكريا العنبري: لنبينا محمد ﷺ خمسة أسماء في القرآن العظيم، قال الله عزوجل: ﴿محمد رسول الله﴾ [الفتح: ۲۹]. وقال: ﴿مبشراً برسول يأتي من بعدي اسمه أحمد﴾ [الصف: ٦]. وقال: ﴿وإنه لما قام عبد الله﴾ وقال: ﴿طه﴾ وقال: ﴿يس﴾ وعن كعب، قال الله عزوجل لمحمد ﷺ عبدي المتوكل المختار، وعن حذيفة بسند صحيح يرفعه: "أنا المقفى ونبي الرحمة"، وعن مجاهد قال ﷺ "أنا رسول الرحمة، أنا رسول الله الملحمة بعثت بالحصاد ولم أبعث بالزراع" وفي "كتاب الشفاء": وأنا رسول الراحة ورسول الملاحم وأنا قثم، والقثم الجامع الكامل، وفي القرآن: المزمل، والمدثر والنور والمنذر والبشير والشاهد والشهيد والحق والمبين والأمين وقدم الصدق ونعمة الله والعروة الوثقى والصراط المستقيم والنجم الثاقب والكريم وداعي الله والمصطفى والمجتبى والحبيب ورسول رب العالمين والشفيع والمشفع والمتقي والمصلح والظاهر والصادق والمصدوق والهادي وسيد ولد آدم وسيد المرسلين وإمام المتقين وقائد الغر المحجلين وحبيب الله وخليل الرحمٰن وصاحب الحوض المورود والشفاعة والمقام المحمود وصاحب الوسيلة والفضيلة والدرجة الرفيعة وصاحب التاج والمعراج واللواء والقضيب وراكب البراق والناقة والنجيب وصاحب الحجة والسلطان والعلامة والبرهان وصاحب الهراوة والنعلين والمختار ومقيم السنة والمقدس وروح القدس وروح الحق وهو معني البارقليط في الإنجيل. وقال ثعلب: البارقليط الذي يفرق بين الحق والباطل، وقال ثعلب: الخاتم الذي ختم الأنبياء والخاتم أحسن الأنبياء خَلقاً وخُلقاً ويسمي بالسريانية: مشفح والمنحمنا، وفي التوراة: أحيد، معناه أحيد أمتي عن النار. وقيل: معناه الواحد، وقال عياض: معناه صاحب القضيب، أي السيف وفي "الدر المنظم" للعراقي: من أسمائه المصدق المسلم الإمام المهاجر العامل إذن خير الآمر والناهي المحلل والمحرم الواضح الرافع المجير، وقال ابن دحية: أسماؤه وصفاته إذا بحث عنها تزيد على الثلاث مئة، وقد ذكرنا عن ابن العربي: أن أسماءه بلغت ألفا كأسماء الله تعالى. (عمدة القاري: ۱۱/۲۸۳، باب ما جاء في اسماء النبي ﷺ، ط: ملتان).
"القول البديع في الصلاة على الحبيب الشفيع" (ص ۱۷٤)
میں بعض صوفیہ سے ایک ہزار تک ناموں کا ہونا منقول ہے اور بعض نے تین سو تک تعداد ذکر کی ہے، اور مصنف رحمہ اللہ نے حروفِ تہجی کی ترتیب سے مرتب فرمایا ہے اور اس کے بعد بالترتیب ٤۲۸ اسماء گرامی ترجمہ کے ساتھ ذکر فرمائے ہیں (طوالت کی وجہ سے ترک کیا جاتا ہے) اس میں الآخر کے معنی تمام انبیاء سے اخیر میں تشریف لا نے والے اور
الأول
سب سے پہلے نجات کا پیغام لا نے والے مذکور ہے، پھر فرمایا اسماء گرامی کی تعداد ایک قول کے مطابق ٤۳۰ بتائی گئی ہے لیکن علماء کرام نے صرف انہیں اسماء کو لیا ہے جن کے بارے میں احادیث وارد ہوئی ہیں اور وہ ۹۹ ہیں ۔
خلاصہ یہ کہ نبی کریم ﷺ کے اسمائے گرامی صرف ۹۹ میں منحصر نہیں ہیں بلکہ ٤۰۰ سے زائد شمار کیے ہیں اور ایک ہزار تک بیان کیے گئے ہیں البتہ صرف ۹۹ اس لیے لیے گئے ہیں تاکہ اسماء حسنی کے ساتھ نسبت ر ہے، اور ان میں اکثر باعتبار اوصاف کے قرآن مجید سے حاصل شدہ ہیں اور بعض اسماء احادیث میں وارد ہوے ہیں ۔
رہی یہ بات کہ
الأول
اور الآخر یہ خاص اللہ تعالی کی صفات ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ دونوں نسبتوں کے اعتبار سے ان کا معنی جدا ہے، اللہ کی طرف منسوب ہو تو خاص صفات مراد ہیں اور نبی عليہ السلام کی طرف منسوب ہو تو اس کا معنی علیحدہ ہے چنانچہ
الأول
سے مراد آپ ﷺ کی روح مبارک کو سب سے پہلے پیدا کیا گیا تھا یا اولیت اس اعتبار سے ہے کہ آپ کی نبوت کا اعلان تمام انبیاء کی نبوت سے پہلے کیا گیا اور الآخر کے معنی سب سے آخر میں مبعوث ہونے والے ۔ (الاول اور الآخر کی مزید تفصیل "ابواب الحدیث" کے تحت ملاحظہ فرمائیں) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.