اژدحام کی وجہ سے عورتوں کی طرف سے رمی کرنے کا حکم:

7 min readFatwa Vol 3 #514Urdu
Vol. 3ابواب الصوم سے متعلق متفرق مسائل:باب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

ازدحام کے عذر کے پیش نظر اگر عورتیں خود رمی نہ کریں بلکہ ان کی طرف سے ان کے مرد رمی کر لیں یا اور کوئی رمی کر لے تو حج میں کوئی خلل واقع ہوگا یا نہیں؟ نیز کوئی دم وغیرہ واجب ہے یا نہیں؟

Answer

حج ایک ایسی عبادت ہے کہ شریعت نے عذر و عجز اور مجبوری کے وقت پورے حج کی نیابت کو جائز قرار دیا ہے، بنا بریں عذر اور عجز کی وجہ سے رمی میں نیابت بدرجۂ اولیٰ درست ہو گی، پھر فقہاء کے ہاں نیابت فقط مریض اور معذور ہی کے لیے درست ہے، اور اس کی تعیین کے لیے بنیادی طور پر دو چیزیں ہیں: (۱) ایسا معذور اور مریض کہ کنکری پھینکنے کی بھی طاقت نہ ہو ۔ (۲) کنکری پھینکنے کی استطاعت ہو لیکن جمرات تک چلنا انتہائی دشوار اور ناقابل برداشت ہو، جب کہ آج کل جمرات کے احاطہ میں پیدل چلے بغیر چارہ نہیں ۔
باقی محض اژدحام کی وجہ سے رمی میں نیابت درست نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ فقہاء نے رمی کے اوقات میں جو وسعت رکھی ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوے صحیح وقت کا انتخاب کر کے اس میں بوڑھے، ضعیف اور عورتیں بآسانی رمی کا عمل انجام دے سکتے ہیں ۔
ملاحظہ ہو غنیۃ الناسک میں مذکور ہے:

(تنبيه) قد تبين مما قدمنا أنهم جعلوا خوف الزحام عذراً للمرأة ولمن به علة أو ضعف في تقديم الرمي قبل طلوع الشمس أو تأخيره إلى الليل لا في جواز النيابة عنهم لعدم الضرورة فلو لم يرموا بأنفسهم لخوف الزحام تلزمهم الفدية، والله سبحانه وتعالى أعلم. (غنية الناسك في بغية المناسك، ص۱۰۰، فصل في الترتيب بين الجمار الثلاث، ط: إدارة القرآن).

زبدۃ المناسک میں مرقوم ہے:
مسئلہ: اور عورت کو یہ جائز نہیں ہے کہ فقط اژدحام کی وجہ سے اس کی طرف سے نیابۃً رمی کرائی جائے سوا کسی اور عذر بیماری وغیرہ کے جس کی وجہ سے وہ خود رمی نہ کر سکتی ہو، اژدحام کی وجہ سے اس کے لیے جمرۃ العقبہ خواہ کسی اور دن کی رمی میں یہ تاخیر کی رخصت میں اُس کی رعایت کی گئی ہے اور مرض کی حالت میں مرد عورت دونوں کو اجازت ہے، پس عورت کو محض تنگی و ہجوم کثرت لوگوں کے دوسرے سے نیابۃً رمی کرانا جائز نہیں، اگر خود جا کر رمی نہ کرے گی تو جزا لازم ہو گی ۔ (زبدۃ المناسک، ص۱۸٤) ۔
جدید فقہی مباحث میں مرقوم ہے:
اس بابت تمام ہی مقالہ نگار حضرات کا اتفاق ہے کہ مجبوری اور معذوری کے وقت رمی جمرات کے لیے دوسرے اشخاص کو نائب بنانا درست ہے، اور عذر کی حد بندی کرتے ہوے بیشتر حضرات نے صراحت کی ہے کہ عذر کی حد یہ ہے کہ معذور شخص کھڑے ہو کر نماز پڑھنے پر قادر نہ ہو اور مقامِ رمی تک از خود جانے کی صلاحیت و طاقت نہ رکھتا ہو تو ایسا شخص شریعت کی نگاہ میں معذور تصور کیا جائے گا، اسی طرح تمام ہی حضرات اس بات پر متفق ہیں کہ محض اژدحام جوازِ نیابت کے لیے عذر قرار نہیں پائے گا، نیز اس حکم میں مرد و خواتین سب برابر ہیں ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
حضراتِ علمائے کرام چونکہ نیابت فی الرمی کے حق میں اژدحام کو مطلقاً عذر نہیں مانتے تو اس کا لازمی مطلب یہی نکل سکتا ہے کہ ان حضرات کے یہاں اژدحام سے پیدا شدہ صورتِ حال بھی ایسا عذر نہیں ہو گا جس سے رمی میں نیابت جائز ہو جائے اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ وہ عذر جو مبیح نیابت فی الرمی ہے وہ منحصر اور مخصوص ہے بس اسی عدمِ استطاعت علی الرمی کے ساتھ ۔
چنانچہ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ رمی جمرہ کی جگہ گو محدود ہے مگر وقت میں وسعت ہے، اس لیے وقت کی وسعت سے فائدہ اٹھا کر اژدحام کی اذیت سے بچا جا سکتا ہے، اگر وقتِ مستحب و جواز کی رعایت نہ ہو سکے تو ضعیفوں اور عورتوں کے لیے طلوعِ شمس سے قبل یا غروبِ شمس کے بعد رات میں رمی کرنے کی اجازت ہو گی، گویا ان حضرات کے یہاں اژدحام اس حد تک عذر ہے کہ وقتِ مکروہ میں رمی بلا کراہت صحیح ہو جائے گی مگر نیابت کی گنجائش بہرحال نہ ہو گی ۔ (جدید فقہی مباحث: ۱۳/۲۳، و ۵۵) ۔
دوسری رائے:
تقریباً اکیس مقالہ نگار حضرات کا خیال ہے کہ یہ عذر بھی مبیح نیابت ہو سکتا ہے کہ جب ازدحام سے ایسی صورتِ حال پیدا ہو جائے کہ اس اژدحام کے اندر کسی بھی مرض کے مریض یا بوڑھے کمزور مرد و عورت کے لیے اپنی کمزوری کے سبب قوتِ مدافعت کی کمی کی بنا پر کچل جانے، یا گر کر کسی عضو کے ٹوٹ پھوٹ جانے، یا دب جانے سے ایسی اذیتِ شدید ہ کا ظن غالب ہو جائے جو عادۃً ناقابل برداشت ہو تو ایسا ازدحام بھی ایک عذر ہوگا اور ان کے لیے رمی میں نائب بنانا جائز ہوگا ۔ (جدید فقہی مباحث: ۱۳/۵٦) ۔
مزید ملاحظہ کیجیے: (خیر الفتاوی: ٤/۱۵۸، و فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦/۵۵٤، باب جنایات) ۔
لیکن اژدحام والا مسئلہ پرانے زمانہ میں تھا، کثرت سے حادثات رونما ہوتے تھے اور جمرات پر گویا ایک قیامتِ صغریٰ قائم ہوتی تھی، فی زماننا اژدحام والی بات ناقابل قبول ہے کیوں کہ آج کل سعودیہ نے جمرات کو چند منزلوں میں تقسیم کر دیا ہے اور ہر ایک منزلہ کے لیے آمد و رفت کا راستہ بھی متعین کر دیا ہے جس کی وجہ سے عام طور پر اژدحام نہیں ہوتا اور بآسانی رمی کر کے واپس آ سکتے ہیں ۔ بنا بریں محض اژدحام کی وجہ سے نیابت درست نہیں ہو گی ۔ اس لیے صورتِ مسئولہ میں دم واجب ہوگا ۔
ہاں اگر اژدحام ناقابلِ برداشت ہو اور موت و شکست کا خطرہ ہو تو پھر نیابت درست ہو گی جیسے گزشتہ سال ۱٤۳٦؁ھ میں اژدحام میں بے ترتیبی سینکڑوں لوگوں کے لیے پیغامِ موت ثابت ہوئی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.