رمی، ذبح و حلق کے درمیان تقدیم و تاخیر سے دم کا حکم:

17 min readFatwa Vol 3 #314Urdu
Vol. 3كتاب الحجباب (٦): جنایات کا بیان

Question

رمی، ذبح، حلق میں ائمہ ثلاثہ رحمه الله اور صاحبین رحمه الله کے نزدیک ترتیب مسنون ہے واجب نہیں، آج کل کے فقہاء کی آراء ذکر کریں؟

Answer

نظام الفتاوی میں ہے:
سوال: خود مذبح میں یہ مشاہدہ ہوا ہے کہ لوگوں کے ہجوم اور جانوروں کی کثرت کی بناء پر طبیعت گھبراتی ہے اور چوٹ لگنے کا بھی اندیشہ ہے اور اوپر سے ۳ میل پیدل گرمی میں چلنا پڑتا ہے اس موقع پر گاڑی ملنا بھی مشکل اور غریب لوگوں کے پاس کرایہ بھی نہیں ہوتا لہذا ان وجوہات کے ماتحت ضرورت سمجھ کر کیا کسی حنفی کو حق ہے کہ اس خاص مسئلہ میں شوافع کے مسلک پر عمل کرے کہ ان کی کتابوں سے عدم وجوبِ ترتیب ظاہر ہے؟
الجواب: تقریب فہم کے لئے چند عبارات پیش کی جاتی ہیں:

(۱) وأما ترك الواجبات بعذر فلا شيء عليه، ثم مرادهم بالعذر ما يكون من الله تعالى، فلو كان من العباد فليس بعذر، (إلى قوله) بخلاف ماذا منعه خوف الزحام فإنه من الله تعالى، فلا شيء عليه
۔
(غنية الناسك في بغية المناسك: ص ۱۳۸).
(۲) وفي الشامية: إن ترك الواجب بعذر مسقط للدم.
(۳) ولو طاف المفرد وغيره قبل الرمي والحلق لا شيء عليه ويكره، لترك السنة. (زبدة المناسك: ص ۱٦٦).

ان عبارتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ
"الترتيب بين الرمي والذبح والحلق"
اگر چہ فی نفسہ واجب ہے لیکن عذر شرعی کی وجہ سے اگر چھوٹ جائے یا ٹوٹ جائے اس پر عمل نہ ہو س کے تو اس پر دم جنایت وغیرہ یا کوئی وزر یا کفارہ وغیرہ لازم نہ آئے گا بلکہ ادائیگی حج بلا کراہت مکمل ہو جائے گی ۔ (نظام الفتاوی: ۱/ ۱۵۸) ۔
جدید فقہی مباحث میں ہے:
سوال: رمی ذبح حلق میں احناف کے یہاں ترتیب رکھنا ضروری ہے آج کل کے مشکل ترین حالات میں ترتیب برقرار رکھنا انتظامی مجبوریوں کی وجہ سے مشکل ہو گیا ہے تو کیا اس کے حل کے لئے عدم وجوب کے قائلین اور احناف میں صاحبین کے قول کو اختیار کیا جا سکتا ہے؟
اس مسئلہ میں مقالہ نویسوں کی جملہ دو رائیں ہیں:
(۱) ان میں زیادہ تر حضرات نے صاحبین اور ائمہ ثلاثہ کے مسلک پر حالات و زمانہ کے پیش نظر فتویٰ دیا جن میں چند اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:
(۱) مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ۔ (٦) مفتی شبیر احمد قاسمی ۔
(۲) مولانا ذخورشید انور اعظمی ۔ (۷) مولانا راشد حسین ندوی ۔
(۳) مولانا ارشاد الحق قاسمی ۔ (۸) مولانا انوار الحق رحمانی ۔
(٤) مولانا عبد اللطیف مظاہری ۔ (۹) مفتی انور علی اعظمی ۔
(۵) مولانا مصلح الدین بروڈوی ۔ (۱۰) مولانا شمس پیر زادہ ۔
دلائل
: عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله تعالى عنه أن رسول الله ﷺ وقف في حجة الوداع بمنى للناس يسئلونه، فجاء رجل فقال: يا رسول الله لم أشعر، فحلقت قبل أن أذبح، فقال: "اذبح ولا حرج" فجاء ه آخر، فقال: لم أشعر، فنحرت قبل أن أرمي فقال: "ارم ولا حرج" فما سئل النبي ﷺ عن شيء قدم أو أخر إلا قال: "افعل ولا حرج". متفق عليه.

(امام بخاری رحمه الله نے اس روایت کو مختلف الفاظ کے ساتھ مختلف مقامات پر نقل فرمایا ہے) ۔

قال محمد رحمه الله: وبالحديث الذي روي عن النبي ﷺ نأخذ، أنه قال: "لا حرج في شيء من ذلك" وقال أبو حنيفة رحمه الله: لا حرج في شيء من ذلك ولا كفارة، إلا في خصلة واحدة، المتمتع والقارن إذا حلق قبل أن يذبح، قال: عليه دم، وأما نحن، فلا نري عليه شيئاً.
(موطأ امام محمد رحمه الله: ص ۲۳۵).

دوسری رائے: (۱) مفتی عبد الرحیم قاسمی ۔
(۲) مولانا ابراہیم فلاحی ۔
(۳) مولانا منظور احمد قاسمی ۔
(٤) مفتی حبیب اللہ قاسمی ۔
ان حضرات نے ترتیب کو واجب قرار دیا ہے ۔
دلائل:
ــ (۱) ويبدء إذا وافي مني برمي جمرة العقبة ثم بالذبح إن كان قارناً أو متمتعاً ثم بالحلق، لحديث عائشة رضي الله تعالى عنها، أن النبي ﷺ قال: "إن أول نُسُكنَا في هذا اليوم أن نرمي ثم نذبح ثم نحلق" ولأن الذبح والحلق من أسباب التّحلّل، ألا تري أن تحلّل المحصر بالذبح، فيتقدم الرمي عليها. (المبسوط للسرخسي: ٤/٦٤، باب رمي الجمار).
(۲) اعلم أن في يوم النحر أربعة نسك رمي ونحر وطواف على ترتيب ما ذكر والترتيب في الثلاثة واجب. (العرف الشذي: ۱ /۸۲).

جدید فقہی مسائل میں مذکور ہے:
فقہاء احناف میں بھی صاحبین کے نزدیک ترتیب سنت ہے واجب نہیں، اگر ان افعال میں بھی کچھ تقدیم و تاخیر ہو جائے تو کچھ واجب نہیں ہوتا ۔

"أما عندهما فعدم التأخير سنة حتى لو ذبح قبل التحلّل بالحلق لا شيء عليه

. (الشامي: ۲ /۲۵۰. وبدائع الصنائع: ۲ /۱٤۱).

اور صاحبین رحمه الله کا قول بھی در حقیقت امام ابو حنیفہ رحمه الله ہی کا ایک قول ہوتا ہے بلکہ جہاں صاحبین رحمه الله کی رائے ایک طرف اور امام صاحب رحمه الله کی رائے ایک طرف ہو وہاں بعض اہل علم کے نزدیک دونوں قول میں سے ایک پر فتویٰ دینے کی گنجائش ہوتی ہے ۔ (
شرح عقود رسم المفتي: ۱۹، مكتبه دار الإشاعة).

اس لئے فی زماننا صاحبین رحمه الله کی رائے پر فتویٰ دینا اور اس پر عمل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ (جدید فقہی مسائل: ۲/۲۰۰) ۔
خلاصہ: جدید فقہی مباحث میں مختلف فیصلے علماء ہند کے جو بیان کیے ہیں ان میں ایک فیصلہ یہ ہے:
حنفیہ کے قول کے مطابق ۱۰ ذی الحجہ کے مناسک رمی ذبح اور حلق کو ترتیب کے ساتھ انجام دینا واجب ہے، اور صاحبین اور کثیر فقہاء کے یہاں مسنون ہے، جس کی خلاف ورزی سے دم واجب نہیں، حجاج کو چاہیے کہ جہاں تک ممکن ہو ترتیب کی رعایت کو ملحوظ رکھے، تاہم ازدحام اور موسم کی شدت، اور مذبح کی دوری وغیرہ کی وجہ سے صاحبین اور دیگر ائمہ کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، لہذا یہ مناسک اگر ترتیب کے خلاف ہوں تو بھی دم واجب نہیں ہوگا ۔ (جدید فقہی مباحث: ۱۳ /۵۹۹) ۔
انمول حج میں مفتی سید مصلح الدین احمد بروڈوی نے چھٹی فقہی کانفرنس منعقدہ شیخ الہند ہال دیو بند کے حوالہ سے نقل فرمایا: یوم النحر کے افعال میں عدمِ لحاظِ ترتیب موجب نہیں:
تجویز (۳) رمی، ذبح اور حلق میں ترتیب:
تمتع اور قران کرنے والے کے لئے رمی، ذبح، اور حلق کے درمیان امام اعظم رحمه الله کے قول پر جو مفتیٰ بہ ہے ترتیب لازم ہے، اس کے ترک سے دم واجب ہوتا ہے، جب کہ صاحبین رحمه الله کے نزدیک یہ ترتیب سنت ہے اس کے ترک پر دم واجب نہیں ہے ۔
آج کل حجاج ازدحام یا دیگر پریشان کن اعذار کے پیش نظر اگر ترتیب قائم نہ رکھ سکیں تو صاحبین کے قول پر عمل کی گنجائش ہے ۔ (چھٹا فقہی اجتماع بمقام شیخ الہند ہال دیوبند، منعقدہ ۲٦، ۲۷، ۲۸، مارچ ۱۹۹۷ ؁ء ۔ انمول حج: ص ۱۱۵) ۔
مفتی شبیر احمد مراد آبادی کے مقالہ کا خلاصہ:
افعالِ حج میں سے یوم النحر میں: (۱) رمی (۲) ذبح (۳) حلق (٤) طوافِ زیارت ہیں ۔
اس پر سب کا اتفاق ہے کہ طوافِ زیارت کو ترتیب میں باقی رکھنا مسنون ہے، کسی کے نزدیک واجب نہیں ہے ۔
مگر سوال یہ ہے کہ طوافِ زیارت کے علاوہ باقی امورِ ثلاثہ میں ترتیب واجب ہے یا نہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ ترتیب بدلنے کی دو صورتیں ہیں: (۱) عمداً ترتیب بدل دی جائے (۲) جاہلاً یا نسیاناً بدلی جائے ۔ دونوں کی الگ الگ تفصیل ہے ۔
اگر جان بوجھ کر ترتیب بدل دی تو امام ابو حنیفہ رحمه الله نیز امام مالک رحمه الله، امام شافعی رحمه الله (نووی ج: ۱ ص: ٤۲۱) اور امام احمد رحمه الله (البحر الرائق: ۳ /۲٤) کی ایک روایت کے مطابق اس پر دم واجب ہو جائے گا، مگر امام شافعی رحمه الله، امام احمد رحمه الله اور امام مالک رحمه الله کے مشہور قول کے مطابق، نیز صاحبین رحمه الله کے نزدیک اس پر دم واجب نہ ہوگا، اس لئے کہ ترتیب ان سب کے نزدیک سنت ہے اور ترکِ سنت کی وجہ سے دم واجب نہیں ہوتا، نیز حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی جس روایت سے امام ابو حنیفہ رحمه الله نے استدلال فرمایا ہے وہ روایت ضعیف ہے، علامہ بدر الدین عینی رحمه الله نے طحاوی کی شرح نخب الافکار (قلمی) میں "
ولا يصح ذلك عنه"
فرما کر ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کے اس اثر کو ضعیف قرار دیا ہے جس سے وجوبِ دم کا ثبوت ہوتا ہے ۔ (
نخب

الأفكار قلمي ج: ۵ ص: ۸۱
) ۔
اگر مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے یا بھول کی وجہ سے ترتیب بدل دی تب بھی امام صاحب رحمه الله کے قولِ مشہور کے مطابق دم واجب ہو جاتا ہے، جیسا کہ عام کتبِ فقہ میں امام صاحب رحمه الله کا یہ قول ملتا ہے، مگر امام محمد رحمه الله نے
"كتاب الحجة على أهل المدينة"
میں امام صاحب رحمه الله کا قول صراحت کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ عبارت یہ ہے:

"أخبرنا محمد رحمه الله عن أبي حنيفة رحمه الله في الرجل يجهل وهو حاج فيحلق رأسه قبل أن يرمي الجمرة أنه لا شيء عليه. (كتاب الحجة: ۲/۳۷۱).

اس کے نیچے تعلیق میں مفتی سید مہدی حسن صاحب فرماتے ہیں:
فإن الأحاديث الواردة في الباب إنما تدلّ على من جهل عن شيء ولم يشعر به ثم فعل خلافه فلا شيء عليه ولا دم، ومن علم الترتيب بين الواجبات ثم خالفه عمداً وقدم الشيء أو أخره عن موضعه فهو غير داخل في الأحاديث المذكورة. (تعليق: ۲ /۳۷۱).

صاحبین رحمه الله، ائمہ ثلاثہ رحمه الله، حسن بصری رحمه الله، قتادہ رحمه الله .

اور جمہور علماء اس بات کے قائل ہیں کہ بھول و نسیان اور جہالت سے ترتیب بدل جانے کی وجہ سے دم لازم نہیں ہوتا ہے، اس کو حضرات علماء امت نے اس طرح کے الفاظ سے نقل فرمایا ہے:
فإن أخل بترتيبها ناسياً أو جاهلاً بالسنة فلا شيء عليه في قول كثير من أهل العلم منهم الحسن وطاؤس

وإليه ذهب الشافعي رحمه الله وأحمد رحمه الله وإسحاق رحمه الله

وقال ابن عباس رضي الله تعالى عنهما: عليه دم، وهو قول النخعي رحمه الله

وإليه ذهب أبو حنيفة رحمه الله والنخعي رحمه الله وابن الماجشون رحمه الله. (معارف السنن: ٦ /۲۱۰، سعيد. وأوجز المسالك: ۳ /۷۱۵).

امام صاحب رحمه الله کی دلیل ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کا اثر ہے ۔
عن ابن مسعود رضي الله تعالى عنه قال: من قدم نسكاً على نسك فعليه دم. قلت: هكذا هو في غالب النسخ، ويوجد في بعضها ابن عباس رضي الله تعالى عنهما وهو أصح. وقال: إبراهيم ابن مهاجر ضعيف. (نصب الراية: ۳/۱۲۹).

جمہور کی دلیل ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی وہ روایت جس میں نبی کریم ﷺ سے مختلف حضرات نے ترتیب کی رعایت نہ کرنے کے بارے میں سوال کیا تھا تو آپ ﷺ نے سب کے جواب میں فرمایا: "
افعل ولا حرج". (بخاري شريف: ۱/ ۲۳۲).

حاصل بحث:
ــ

اب پوری بحث پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ جمہور کے دلائل زیادہ مضبوط اور زیادہ صحیح ہیں، اور تطبیق کی بہترین شکل یہ ہو سکتی ہے کہ صحیحین کی مرفوع روایات میں کفارہ لازم نہ ہونے کی بات اس صورت میں ہے کہ جب لاعلمی یا بھول سے ترتیب بدل دی ہو اور حضرت ابن عباس رضي الله عنه کے اثر میں کفارہ اس وقت لازم سمجھا جائے جب کہ جان بوجھ کر ترتیب بدل دی ہو لہذا ایسی صورت میں تمام روایات پر عمل کرنا سب کے نزدیک ممکن ہو سکتا ہے اس لئے اگر کوئی شخص لاعلمی یا بھو ل سے ترتیب بدل دے تو اس پر کفارہ لازم نہ ہونا چاہیے، اور جو شخص جان بوجھ کر ترتیب بدل دے گا اس پر کفارہ لازم ہو جائے گا، ایسی صورت میں بہت ساری دشواریاں ختم ہو سکتی ہیں، لہذا متمتع اور قارن اگر رمی، ذبح، اور حلق کے درمیان عمداً بلا عذر ترتیب بدل دے گا تو دم واجب ہوگا، اور اگر پریشان کن اعذار یا جہالت کی وجہ سے ترتیب قائم نہ رکھ س کے، تو صاحبین رحمه الله کے قول اور امام صاحب رحمه الله کے قولِ غیر مشہور پر عمل کی گنجائش ہو گی، اور ترتیب کے بدل جانے کی وجہ سے وجوب دم کا حکم نہ لگایا جائے ۔ (جدید فقہی مباحث: ۱۳/۱۷۳) ۔
وجوبِ ترتیب پر آیتِ کریمہ سے شبہ اور اس کا جواب:
بعض حضرات نے وجوب ترتیب کے لیے باری تعالی کے فرمان:
﴿ولا تحلقوا رؤوسكم حتى يبلغ الهدي محله﴾
سے دلالت النص کے طور پر استدلال فرمایا، جس کا بیان یہ ہے کہ دلالت النص کی تعریف یہ ہے کہ مسکوت منطوق کے مقابلہ میں اولیٰ بالحکم ہو جیسے
﴿لا تقل لهما أف﴾
میں
"أف"
منطوق ہے اور برا بھلا کہنا مسکوت ہے لیکن برا بھلا کہنا اولیٰ بالنہی ہے ۔
اسی طرح
﴿ولا تحلقوا رؤوسكم حتى يبلغ الهدي محله﴾
آیت کریمہ میں محصَر کو تقدیم نحر علی الاطلاق کا حکم دیا گیا، چنانچہ حلق کو ذبح پر مقدم کرنا بالاجماع جائز نہیں اور موجب دم ہے، تو جب محصر (جس نے احرام باندھا اور پھر حج کرنے سے روک دیا گیا ) کا یہ حکم بیان کیا کہ ہدی ذبح ہونے کے بعد حلق کرے تو قارن وغیرہ کا بطریق اولیٰ یہ حکم ہونا چاہیے کہ ذبح سے پہلے حلق درست نہ ہو، اور ترتیب توڑنے پر دم لا زم ہو، کیوں کہ اس کو تو روکا بھی نہیں گیا، لہذا بطریق اولیٰ ترتیب لازم ہونی چاہیے؟
الجواب: اس استدلال کا جواب یہ ہے کہ محصَر نے فقط حج کا احرام باندھا، پھر حج کے افعال سے روک لیا گیا، اس نے حج کا کوئی رکن ادا نہیں کیا، فقط احرام باندھا ہے اور احرام حج کے لیے شرط کا درجہ رکھتا ہے ۔
اور حلال ہونے کے لیے افعال حج میں سے کوئی ایک کام کرنا ضروری ہے، تاکہ حلال ہونا اس فعل پر مرتب ہو جائے، پس محصر کے لیے ہدی کا حرم میں ذبح ہونا ضروری ہے ۔
بخلافِ قارن متمتع کہ وہ حج کے کئی افعال کر چکے ہیں، مثلاً وقوف عرفہ وغیرہ، اب فقط نحر اور حلق باقی ہے ۔
حاصل یہ ہے کہ محصر کو حلق سے پہلے حج کا کوئی ایک فعل تو کرنا چاہیے کیوں کہ اکثر تو احرام باندھنے کے بعد ہی روکا جائے گا تو وہ فعل قربانی ہے، لیکن غیر محصر اگر حلق سے پہلے قربانی نہ کرے تو اور بہت سارے افعال کر چکا ہے ۔
احرام شرط کا درجہ رکھتا ہے ۔
قال في غنية الناسك: الإحرام قبل الوقوف بعرفة

وهو شرط ابتداء حتى صح تقديمه على الوقت، وله حكم الركن انتهاء. (غنية الناسك: ۲۱، إدارة القرآن، عمدة الفقه: ٤/٦۹).

پس عام متمتع اور قارن کا حکم محصر سے مختلف ہوگا، بنا بریں قارن متمتع کے لیے ترتیب کا وہی حکم ہوگا جو تفصیلی فتویٰ میں لکھا جا چکا ہے، فلیراجع ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.