کچھ کنکریاں جیب میں رہ جانے پر رمی کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #534Urdu
Vol. 3ابواب الصوم سے متعلق متفرق مسائل:باب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

ایک عورت حج کے لیے گئی، عید کے دن کی رمی کے لیے کنکریاں اپنے جیب میں رکھ لی، رمی کے بعد ہوٹل واپس آئی اور کپڑے بدل لیے، بعد میں گھر آنے کے بعد ان کپڑوں کو دیکھا تو دو کنکریاں رہ گئی تھیں اب اس عورت پر کوئی جزا واجب ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ اگر یقینی طور پر معلوم ہے کہ واجب رمی کی دو کنکریاں رہ گئی تھیں، تو چونکہ چار سے زائد کی رمی ہو چکی ہے اس وجہ سے رمی ادا ہو گئی البتہ سات کی تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے ہر کنکری کے عوض صدقہ فطر کی مقدار ادا کرنا لازم ہوگا اور یہ صدقہ حرم کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ حرم سے باہر دینا بھی جائز ہے البتہ حرم کے مساکین پر خرچ کرنا افضل ہے ۔ ملاحظہ ہو شرحِ لباب المناسک میں ہے:

التاسع إتمام العدد أو إتيان أكثره، وفيه أن هذا ركن الرمي لا شرطه فلو نقص الأقل منها أي من السبعة بأن رمي أربعة، وترك ثلاثة أو أقل لزمه جزاؤه مع الصحة أي مع صحة رميه لحصول ركنه. (شرح اللباب، ص۲۷۵، فصل في أحكام الرمي).
وفيه أيضاً: وإن ترك الأقل أو أخره كحصاة أو حصاتين أو ثلاثة في اليوم الأول

فعليه لكل حصاة صدقة إلا أن يبلغ ذلك دماً فينقص منه. (شرح اللباب، ص۳۹٦، فصل في الجناية في رمي الجمرات).
وفي غنية الناسك: فلو ترك الأقل من سبعة يوم النحر

أجزأ ه وعليه لكل حصاة صدقة. (غنية الناسك، ص۱۰۱، فصل في واجبات الرمي).
وفي شرح اللباب: ولا يشترط في التصدق به أي بلحمه عدد المساكين

ولا فقراء الحرم فلو تصدق به على غيرهم أي غير فقراء الحرم

جاز وفقراء الحرم أفضل، أي مطلقاً. (شرح اللباب، ٤۳۵)
وللمزيد ينظر: (رد المحتار: ۲/۵۱۳، سعيد، والفتاوى الهندية: ۱/۲٤۷).

عمدۃ الفقہ میں ہے:
اگر رمی کا اقل حصہ ترک کر دیا یعنی پہلے دن (دسویں ذی الحجہ) کو ایک یا دو یا تین کنکریاں چھوڑ دیں تو اس پر ہر کنکری کے بدلے صدقہ دینا واجب ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/۵٤۵) ۔ و کذا فی معلم الحجاج، ص۲۸۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.