حالتِ احرام میں مچھر مارنے کی وجہ سے کفارہ کا حکم:

1 min readFatwa Vol 3 #539Urdu
Vol. 3ابواب الصوم سے متعلق متفرق مسائل:باب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

امسال بعض حاجیوں نے مچھر مارے تو اس کی وجہ سے کوئی جزا وغیرہ واجب ہو گی یا نہیں؟ نیز ان کا یہ فعل صحیح ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ کوئی جزا وغیرہ واجب نہیں، اور اس فعل کی وجہ سے کوئی گناہ بھی لازم نہیں آتا ۔ بخاری شریف میں روایت ہے:

عن عبد الله بن عمر وسأله رجل عن المحرم قال: شعبة أحسبه بقتل الذباب فقال: أهل العراق يسألون عن قتل الذباب وقد قتلوا ابن بنت رسول الله ﷺ

(رواه البخاري: ۱/۵۳۰).
قال في المختار: ويجوز له قتل البراغيث والبق والذباب والحية والعقرب

(المختار، ص۱٤۵، فصل في بيان ما يجوز للمحرم أن يفعل ومالا يجوز).
وقال العلامة السرخسي رحمه الله في المبسوط: وليس على المحرم في قتل البعوض والذباب والنمل والحلمة والقراد شيء. (المبسوط، ص۵/۱۹۱، بيروت).
وللمزيد راجع: (تبيين الحقائق: ۲/٦۸، ملتان، والبحر الرائق: ۲/۳۳، ط: كوئته).

عمدۃ الفقہ میں مرقوم ہے:
اسی طرح دیگر موذی جانوروں اور حشرات الارض کے حل و حرم اور احرام میں قتل کرنے سے کوئی جزا واجب نہیں ہو گی اور اس فعل پر کوئی گناہ لازم نہیں ہوگا ۔ وہ جانور یہ ہیں: مچھر، پسو، کھٹمل، مکھی پروانہ (پتنگا)
(
عمدۃ الفقہ: ٤/۵۵۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.