جھوٹا اقرار کرنے اور اس پر گواہ پیش کرنے سے وقوعِ طلاق کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #1Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب (۱): طلاق واقع ہونے نہ ہونے کا بیان

Question

اگر کسی نے مصلحت کی وجہ سے طلاق کا جھوٹا اقرار کر لیا کہ میں نے بیوی کو طلاق دی ہے اور اس اقرار پر گواہ پیش کر دیے تو طلاق ہوئی یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ جھوٹے اقرار سے دیانۃً طلاق واقع نہیں ہوئی اور اگر گواہی سے ثابت کر دیا کہ میں نے جھوٹا اقرار کیا تھا تو قضاءً بھی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
ملاحظہ فرمائیں علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

لو أقر بالطلاق هازلاً أو كاذباً، فقال في البحر: إن مراده لعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة، ثم نقل عن البزازية والقنية لو أراد به الخبر عن الماضي كذباً لا يقع ديانة، وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاءً أيضاً. (فتاوى الشامي: ۳/۲۳۷، كتاب الطلاق، سعيد).

طحطاوی میں ہے:

الإقرار بالطلاق كاذباً يقع به قضاءً لا ديانة. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۲/۱۱۳، باب الصريح، كوئته).

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

وفي الصغرى: في أمالي أبي يوسف رحمه الله: اذا قال لها: قد طلقتك، أوقال لها: أنت طالق، وأراد الخبر عما مضي كذباً، وسعه فيما بينه وبين الله تعالى أن يمسكها. (الفتاوى التاتارخانية: ۳/۲٦۱، الفصل الرابع فيما يرجع إلى صريح الطلاق، إدارة القرآن).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
جب شوہر نے محض دفع الوقتی کے لیے طلاق کا اقرار کر لیا اور حقیقۃً عدالت میں طلاق نہیں دی تھی تو دیانۃً طلاق واقع نہ ہو گی ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۲/۲۳۷، مبوب و مرتب) ۔
نیز دوسری جگہ مرقوم ہے:
اگر مخاطب کے سامنے جھوٹی خبر دینا تھا اور جھوٹ کا اقرار کرنا تھا تو دیانۃً فیما بینہ و بین اللہ تعالیٰ طلاق نہیں ہو گی، اگر پہلے سے اس پر گواہ بنا لیا تھا کہ میں جھوٹا اقرار کروں گا تو قضاء بھی نہیں ہو گی ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۲/۲۳٤، مبوب و مرتب) ۔
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
از اخبار کاذب دیانۃً طلاق واقع نمی شود و اگر قبل از اخبار کاذب بینہ قائم کردہ باشد اصلاً طلاق واقع نہ شود نہ قضاء نہ دیانۃً و اگر مقصود شوہر اخبار نیست بلکہ مقصود انشاء طلاق است فی الحال طلاق واقع می شود ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: جلد دوم ص۵۰۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.