عورت سے استمناء بالید کرانے کا حکم:
Question
اگر عورت حیض میں ہے تو کیا مرد عورت سے استمناء بالید کرا سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ بیوی کے ہاتھ سے استمناء کی گنجائش اس وقت ہے جب کہ حالت حیض میں جماع کا خطرہ ہو، عام حالات میں اجازت نہیں، نیز عادت پڑ جانے کا خطرہ ہے، اس لیے جو آدمی اپنے اوپر قابو نہیں پا سکتا ہے وہ حیض میں بیوی سے دور رہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:
ويجوز أن يستمني بيد زوجته وخادمته
ويدل أيضاً على ما قلنا ما في الزيلعي حيث استدل على عدم حله بالكف بقوله تعالى: ﴿والذين هم لفروجهم حافظون﴾. الآية. وقال: فلم يبيح الاستمتاع إلا بهما أي بالزوجة والأمة، فأفاد عدم حل الاستمتاع أي قضاء الشهوة بغيرهما هذا ما ظهر لي، والله أعلم. (فتاوى الشامي: ۲/۳۹۹، باب ما يفسد الصوم ومالا يفسده).
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
اپنی زوجہ کے ہاتھ سے انزال کرنا اگر بضرورت ہو تو بلا کراہت جائز ہے، مثلاً حیض و نفاس وغیرہ کے عذر سے جماع نہیں کر سکتا اور غلبۂ شہوت کی وجہ سے صبر مشکل ہے، و غیر ذلک، اور اگر بلا ضرورت ہو تو مکروہ ہے ۔ (امداد المفتین:
۷
/
۲٤۸
) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (احسن الفتاوی
۸
/
۳٦٤
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.