استمناء بالید (مشت زنی) کا حکم:

3 min readFatwa Vol 8 #134Urdu
Vol. 8باب (۱۳): حظر و اباحت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

استمناء بالید حرام ہے یا مکروہ؟ اور حرمت یا کراہت کی کیا دلیل ہے؟ بینوا توجروا۔

Answer

استمناء بالید (مشت زنی) کا عمل ناجائز اور گناہ ہے، اور طبی اعتبار سے بھی ضرر رساں ہے، تجربہ کار بتاتے ہیں کہ اس عمل کے کرنے سے اس کی عادت پڑ جاتی ہے اور اس سے مردانہ صلاحیت ختم ہو جاتی ہے الغرض طبی طور پر یہ مہلک ہے لہذا اس قبیح عمل سے بچنا لازم ہے۔ ملاحظہ ہو فتاوی الشامی میں ہے:

قوله الاستمناء حرام، أي بالكف إذا كان لاستجلاب الشهوة، أما إذا غلبته الشهوة وليس له زوجة ولا أمة ففعل ذلك لتسكينها فالرجاء أنه لا وبال عليه كما قال أبو الليث ويجب لو خاف الزنا. (فتاوى الشامي: ٤/۲۷، سعيد).
روح المعاني
میں مرقوم ہے:

اختلف في استمناء الرجل بيده

فجمهور الأئمة على تحريمه وهو عندهم داخل فيما وراء ذلك

وقال ابن الهمام رحمه الله: يحرم فإن غلبته الشهوة ففعل إرادة تسكينها به فالرجاء أن لا يعاقب. (روح المعاني: ۱۸/ ۱۰).

قاموس الفقہ میں مسطور ہے:
یہ عمل ممنوع اور حرام ہے، آنحضور ﷺ نے فرمایا:
ناكح اليد ملعون.
[قال الرهاوي في حاشية المنار: لا أصل له: كشف الخفاء:
۲
/
۳۲۵
، وكذا نقله عنه ملا على القاري في "المصنوع في معرفة الحديث الموضوع، رقم:
۳۷۸
، وقال الشيخ الألباني: ضعيف، وللمزيد راجع: الضعيفة: رقم:
٤۸۵۱
]
اس کی حرمت پر سورۂ مومنون کی آیت ۵ تا ۷ سے بھی استدلال کیا جا سکتا ہے جس میں جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے دو ہی راستوں کی تحدید کر دی گئی ہے، ایک بیوی دوسرے باندی اور ظاہر ہے یہ تیسری صورت ہے، فقہاء نے اسے قابل تعزیر جرم قرار دیا ہے۔
قضائے شہوت کی نیت سے ایسا کرنا قطعاً جائز نہیں ، ہاں اگر شہوت کا غلبہ ہو، زنا سے بچنے اور شہوت میں سکون اور ٹھہراؤ پیدا کرنے کے لیے ایسا کیا جائے تو فقہاء نے لکھا ہے کہ امید ہے کہ اس کا وبال اور عذاب نہ ہوگا، اسی ضرورت کے ذیل میں علاج اور میڈیکل جانچ کی غرض سے مادہ منویہ کا نکالنا بھی داخل ہے۔ تاہم ان سب کا تعلق اتفاق سے ہے، عادت کی تو اجازت نہیں۔ (قاموس الفقہ: جلد دوم، ص ۱۲۵)۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی بینات:
٤
/
۳٦۵
، ۳۷۰۔
۸
/
۲٤۹
، و فتاوی حقانیہ:
۲
/
٤۵۲
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.