دو بیویوں کے درمیان برابری کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #232Urdu
Vol. 4كتاب الطلاقباب حقوق الزوجین

Question

ایک شخص اپنی بیوی کے لئے روزانہ عصر کے بعد پھلوں کا ہدیہ لے کر آتا ہے، اور دوسری بیوی کے لئے نہیں لاتا یا کم لاتا ہے، اس کا یہ عمل درست ہے یا قابل اصلاح ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ نفس ہدیہ و تحفہ میں مساوات ضروری ہے اگر چہ مقدار اور نوعیت میں کچھ فرق ہو ۔ نیز اگر ایک بیوی خوش حال اور مالدار گھرانہ کی ہے، اور دوسری بیوی تنگ دست اور فقر و فاقہ والے گھرانہ سے ہو تو دونوں کے درمیان نفقہ میں برابری ضروری نہیں ہے، دونوں کے درمیان نوعیت و مقدار میں کمی بیشی جائز ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

قوله وفي الملبوس والمأكول

قال في البحر: قال في البدائع: يجب عليه التسوية بين الحرتين والأمتين في المأكول والمشروب والملبوس والسكني والبيتوتة، وهكذا ذكر الولوالجي، والحق أنه على قول من اعتبر حال الرجل وحده في النفقة وأما على القول المفتي به من اعتبار حالهما فلا، فإن إحداهما قد تكون غنية والأخرى فقيرة، فلا يلزم التسوية بينهما مطلقاً في النفقة. (فتاوى الشامي: ۳/۲۰۲، باب القسم).
وفي الطحطاوي على الدر المختار: ان النفقة يعتبر فيها حالهما فحينئذ قد تكون إحداهما غنية والأخرى فقيرة فلا يلزم التسوية بينهما في النفقة. (حاشية الطحطاوي: ۲/۸۸. وكذا في البحر الرائق: ۳/۲۱۸).

عمدۃ القاری میں ہے:

وتمام العدل أيضاً بينهن تسويتهن في النفقة والكسوة والهبة ونحوها. (عمدة القاري: ۱٤/۱۸۷، باب العدل بين النساء، دار الحديث، ملتان).

بذل المجہود میں ہے:

باب في القسم أي العدل بين النساء المبيت والطعام والكسوة والإعطاء. (بذل المجهود: ۱۰/۱٦۹).

امداد الاحکام میں ہے:
عدل کے معنی جور کے مقابل ہیں یعنی ہر چیز کے ساتھ اس کے مناسب اور حق واجب کے موافق برتاؤ کرنا پس اگر زوجین یسار اور اعسار میں مساوی ہیں تو نفقہ میں تسویہ ورنہ حسب حیثیت عدل واجب ہے، تعدد ازواج کی صورت میں تسویہ صرف بیتوتہ وصلات زائدہ میں واجب ہے جب کہ سب حرائر ہوں بقیہ امور میں عدل ہی واجب ہے ۔ (امداد الاحکام:
۲
/
۳۷۷
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.