قرض میں عمدہ چیز واپس کرنے کی شرط کا حکم:
Question
زید نے عمرو کو دس کیلو معمولی درجہ کے گندم بطورِ قرض دیے اور اس سے کہا کہ ایک ماہ کے بعد قرض واپس کرو گے تو عمدہ اور اعلی درجے کے گندم دو گے، کیا یہ معاملہ جائز ہے یا نہیں؟
Answer
اموالِ ربویہ میں باہمی تبادلہ کے وقت نقد اور برابری ضروری ہے، نیز اعلی اور ادنی کا بھی اعتبار نہیں، لیکن قرض کا معاملہ اس سے مستثنی ہے اسی وجہ سے نسیۂ ہونے کے باوجود شریعت نے اس کو جائز قرار دیا ہے، البتہ مماثلت اس میں بھی لازم اور ضروری ہے، لہذا واپسی کے وقت کمیت اور کیفیت میں مساوات ضروری ہے، اس میں عمدہ واپس کرنے کی شرط نفع حاصل کرنے کے مترادف ہے جو کہ ناجائز ہے۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:
ولا يجوز قرض جر نفعاً بأن أقرضه دراهم مكسورة بشرط رد صحيحة أو أقرضه طعاماً في مكان بشرط رده في مكان آخر. (البحر الرائق: ٦/۱۲۲، تتمة في مسائل القرض، كوئته). -
بدائع الصنائع میں ہے:
وأما (الشرائط) الذي يرجع إلى نفس القرض فهو أن لا يكون فيه جر منفعة فإن كان لم يجز نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة على أن يرد عليه صحاحاً أو أقرضه وشرط شرطاً له فيه منفعة لما روي عن رسول الله ﷺ أنه نهي عن قرض جر نفعاً ولأن الزيادة تشبه الربا لأنها فضل لا يقابله عوض والتحرز عن حقيقة الربا وعن شبهة الربا واجب، هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض. (بدائع الصنائع: ۷/۳۹۵، سعيد). -
وفي رد المحتار: قوله كل قرض جر نفعاً حرام، أي إذا كان مشروطاً. (رد المحتار: ۵/۱٦۵، سعيد). -
اعلاء السنن میں ہے:
لا نزاع في حرمة الفضل المشروط في القرض، سواء كان وصفاً أو قدراً. (إعلاء السنن: ۱٤/۵۲۱، إدارة القرآن). -
عطر ہدایہ میں ہے:
ہر ایسا قرض جس میں نفع مشروط ہو ربا ہے، جناب نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
كل قرض جر نفعاً فهو ربا،
یعنی ہر وہ قرض جس میں نفع لیا جائے سود ہے۔ (عطر ہدایہ، ص
۲۹۳
). -
وللاستزادة انظر: (الفتاوى الهندية: ۳/۲۰۲. ومرقاة المفاتيح: ٦/۹۹. وإعلاء السنن: ۱٤/۵۲۱. والفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ٤/۲۲۲. وفتاوي محموديه: ۱٦/٤۱۳، جامعه فاروقيه. جديد معاملات كے شرعي أحكام: ۱/۱۸٤. كتاب الفتاوى: ۵/۳۷۳). -
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.