گندم کے قرض کو رینڈ سے بدلنے کا حکم:
Question
اگر کسی شخص کے ذمہ دس کیلو گندم قرض ہے، قرض دار نے قرض خواہ سے کہا ۵ دن کے بعد میں گندم کی جگہ ۱۰ رینڈ دے دوں گا، تو کیا یہ معاملہ صحیح ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ جب گندم کو دس رینڈ کے عوض بدلا جا رہا ہے تو دس رینڈ فوری طور پر ادا کرنا لازم ہے ورنہ افتراق عن الدین بلا عوض متحقق ہوگا اور یہ ناجائز ہے ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
قوله بدارهم مقبوضة الخ، في البزازية من آخر الصرف: إذا كان له على آخر طعام أو فلوس فاشتراه من عليه بدراهم وتفرقا قبل قبض الدراهم بطل وهذا مما يحفظ فإن مستقرض الحنطة أو الشعير يتلفها ثم يطالبه المالك بها ويعجز عن الأداء فيبيعها مقرضها منه بأحد النقدين إلى أجل، وأنه فاسد لأنه افتراق عن دين بدين. (فتاوى الشامي: ۵/۱٦۵، فصل في القرض، سعيد).
بہشتی زیور میں ہے:
تم نے دو سیر گیہوں یا آٹا وغیرہ کچھ قرض لیا جب اس نے مانگا تو تم نے کہا اس وقت گیہوں تو نہیں ہیں اس کے بدلے تم دو آنہ پیسے لے لو اس نے کہا اچھا تو یہ پیسے اسی وقت سامنے رہتے رہتے دے دینا چاہیے، اگر الگ ہو گیا تو معاملہ باطل ہو گیا ۔ (بہشتی زیور: پانچواں حصہ، ص
۳۱
، قرض لینے کا بیان) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.