کسی معین شیٔ کی نذر میں اس کے خلاف کرنے کا حکم:
Question
اگر کسی شخص نے بکری کی نذر مان لی تو اس کی جگہ بکرا یا دنبہ کی جگہ دنبی ذبح کر سکتا ہے یا نہیں؟ اسی طرح بھینس کی جگہ گائے اور گائے کی جگہ بھینس اور جمعرات کی منت میں جمعہ کو ذبح کر سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ بکری کی جگہ بکرا یا دنبہ کی جگہ دنبی یا بھینس کی جگہ گائے وغیرہ ذبح کر سکتا ہے، لیکن اگر قیمت میں زیادہ تفاوت ہو تو اس کا خیال رکھنا چاہیے ۔ اور جمعرات کو ذبح کرنے کی نذر میں جمعہ کے دن بھی ذبح کر سکتا ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:
نذر أن يتصدق بعشرة دراهم من الخبز فتصدق بغيره جاز إن ساوي العشرة كتصدقه بثمنه. وفي الشامي: وإنما لم يختص في النذر بزمان ونحوه خلافاً لزفر لأن لزوم ما التزمه باعتبار ما هو قربة لا باعتبارات أخر لا دخل لها في صيرورته قربة
نذر التصدق بهذه المائة يوم كذا على زيد فتصدق بمائة أخري قبله جاز
(الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۳/۷٤۱، أحكام النذر، سعيد).
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
ولو قال لله على أن أتصدق بدرهم يوم الخميس، فتصدق يوم الأربعاء جاز. (الفتاوى التاتارخانية: ۲/٤۰۱).
احسن الفتاوی میں ہے:
نذر میں کسی زمان یا مکان یا فقیر کی تعیین کی تو یہ تعیین ناذر پر لازم نہیں ہوتی، کسی دوسرے وقت میں یا دوسرے مکان میں یا دوسرے فقیر کو دینے سے بھی نذر ادا ہو جاتی ہے، اسی طرح اگر نذر میں کوئی چیز متعین کر دی کہ فلاں چیز دوں گا تو بعینہٖ یہی چیز دینا لازم نہیں، بلکہ اس کی قیمت کے برابر نقدی یا کوئی دوسری چیز بھی دے سکتا ہے ۔
قال في العلائية: والنذر لا يختص بزمان ومكان ودرهم وفقير فلو نذر التصدق يوم الجمعة بمكة بهذا الدراهم علي فلان فخالف جاز. رد المحتار: ۲/۱۳۷.
(احسن الفتاوی: ۵/٤۸۰) ۔
امداد الفتاوی میں ہے:
(اونٹ کی منت میں سات بکریاں ذبح کرنا) اس صورت میں اختیار ہے خواہ سات بکریاں ذبح کر کے مساکین کو خیرات کر دیجیے یا متوسط درجہ کے اونٹ کی قیمت مساکین کو تقسیم کر دیجیے ۔ در مختار میں ہے:
ولو قال للّه على أن أذبح جزوراً وتصدق بلحمه فذبح مكانه سبع شياه جاز. وفي نذر أن يتصدق بعشرة دراهم فتصدق بغيره جاز إن ساوي العشرة كتصدقه بثمنه. (إمداد الفتاوي: ۲/۵۵۲)
۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: (امداد الاحکام: ۳/۳٦-۳۷ ۔ و فتاوی رحیمیہ: ۹/۲۵، مبوب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.