قتل کے یقین یا ظن غالب پر قتل کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #298Urdu
Vol. 4كتاب الحدود والقصاصباب (۱): حدود اور قصاص کا بیان

Question

اگر کسی شخص کو یقین یا ظن غالب ہے کہ زید مجھے قتل کر دے گا تو یہ شخص زید کو قتل کر سکتا ہے یا نہیں؟

Answer

شریعتِ مطہرہ میں کسی کو قتل کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے، سوائے تین صورتوں کے ۔ (۱) زنا بعد احصان میں رجم (۲) ارتداد (۳) ناحق قتل پر قصاص ۔ ان تین صورتوں کے علاوہ قتل کی گنجائش نہیں، اگر کسی کوکسی سے اندیشہ ہو تو پولیس وغیرہ کی مدد سے حتی الامکان اپنا بچاؤ کر لے، ہاں اگر زید نے سلاح کے ساتھ حملہ کر دیا اور دفاع کے بغیر چارہ نہیں ہے ورنہ اپنی جان کی ہلاکت کا اندیشہ ہے تو اس وقت دفاعاً قتل کی گنجائش ہو گی ۔ مشکوٰۃ شریف میں ہے:

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله إلا بأحدي ثلاث النفس بالنفس والثيب الزاني والمارق لدينه التارك للجماعة. متفق عليه. (مشكاة: ۲/ ۲۹۹، كتاب القصاص).

ہدایہ میں ہے:

قال ومن شهر على المسلمين سيفاً فعليهم أن يقتلوه لقوله عليه الصلاة والسلام من شهر على المسلمين سيفاً فقد أطل دمه ولأنه باغ فتسقط عصمته ببغيه ولأنه تعين طريقاً لدفع القتل عن نفسه فله قتله. (الهداية: ٤/ ۵٦۷).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

ومن شهر على المسلمين سيفاً وجب قتله ولا شيء بقتله وكذلك إذا شهر على رجل سلاحاً فقتله أو قتله غيره دفعاً عنه فلا يجب لقتله شيء ولا يختلف بين أن يكون بالليل أو النهار في المصر أو خارج المصر كذا في التبيين. (الفتاوى الهندية: ٦/ ۷).
در مختا
رمیں ہے:

ويجب قتل من شهر سيفاً على المسلمين يعني في الحال. وفي الشامية: قوله في الحال أي في حال شهرة السيف عليهم قاصداً ضربهم لا بعد انصرافه عنهم فإنه لا يجوز قتله. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ٦/ ۵٤۵، فصل فيما يوجب القود، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.