بلا حکمِ حاکم زانی کو قتل کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 8 #78Urdu
Vol. 8باب (۱۲): امورِ سیاست اور قضا سے متعلق احکام کا بیان

Question

کینیڈا کے مشہور شہر مونٹریال میں ایک اسلام کا دعوی کرنے والے شخص نے اپنی تین بیٹیوں کو اس لیے قتل کیا کہ انہوں نے زنا کیا تھا یا اجنبی لڑکوں کے ساتھ ان کے تعلقات تھے اور اس قتل کو مذہبی قتل کا نام دیا، کیا واقعی یہ اسلامی تعلیمات کے موافق ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔

Answer

لوگوں کے افعال کو اسلامی تعلیمات کا معیار نہیں بنایا جا سکتا، اس لیے کہ بہت سی مرتبہ لوگوں کے افعال اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوتے ہیں، اسلام اور شریعتِ اسلامیہ سے اس کو دور کی بھی نسبت نہیں ہوتی، چاہے وہ لوگ ا س کو اسلام اور مذہب کا نام دیتے ہوں، یہ واقعہ اسی کی ایک تازہ مثال ہے۔
حدودِ شرعیہ نافذ کرنے کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ اسلامی حکومت ہو اور قاضی شرعی موجود ہو اس کے بغیر حدود و قصاص نافذ نہیں ہو سکتے، ورنہ نفاذِ شریعت تو در کنار فساد عام ہوگا۔
ملاحظہ ہو فتاوی الشامی میں ہے:
فيشترط الإمام لاستيفاء الحدود. (فتاوى الشامي: ٦/۵٤۹، سعيد).

قاضی مجاہد الاسلام صاحب رحمه الله اسلامی عدالت میں فرماتے ہیں:
معاملہ ایسا ہو کہ اسے عوام الناس کے ہاتھوں میں دے دینا فتنہ و فساد کا موجب ہو اور اس کی وجہ سے ایسے انتشار کا خطرہ ہو جو جان و مال کی بربادی کا ذریعہ ہو جب بھی کسی معاملہ میں ایسی صورتِ حال پیدا ہو جانے کا خدشہ ہوگا وہاں حکم حاکم کی ضرورت پیش آ جائے گی مثلاً: حدود۔ (اسلامی عدالت، ص
۲۴۱
، قاضی پبلشرز)۔
نیز رجم کرنے کے لیے اور بھی شرائط ہیں: (۱) چار عینی گواہوں سے ثابت ہونا۔ (۲) محصن ہونا، اور صفتِ احصان سے متصف ہونے کے لیے نکاح صحیح کا ہونا شرط ہے۔
پھر شرائط پورے ہونے کے بعد قاضی یعنی مسلمان جج کے حکم سے حد جاری ہوتی ہے۔
ہدایہ میں ہے:
فالبينة أن تشهد أربعة من الشهود على رجل وامرأة بالزنا

وقالوا رأيناه وطيها في فرجها كالميل في المكحلة

ويبتدئ الشهود برجمه ثم الإمام ثم الناس. (الهداية: ۲/ ۵۰۷، ۵۰۹).

خلاصہ یہ ہے کہ ثبوتِ رجم کے لیے سخت شرائط ہیں اور ادنی شبہ کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے اور تاریخ اسلامی میں ایک بھی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا کہ گواہوں سے رجم ثابت ہوا ہو۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.