سامنے رکھی ہوئی چیز توڑنے پر تاوان کا حکم:

1 min readFatwa Vol 4 #325Urdu
Vol. 4كتاب الحدود والقصاصباب (۳): احکام الضمان

Question

ایک شخص نے اپنے سامنے عینک رکھی اور نماز شروع کی آگے سے کوئی آدمی چلتا ہوا نکلا اور اس قیمتی عینک کو پاؤں سے توڑ دیا کیا اس پر تاوان واجب ہوگا یا نہیں؟

Answer

بصورت مسئولہ مصلی نماز میں مشغول تھا اور گزرنے والا سجدہ کی جگہ کے اندر سے گزرتے ہوے توڑ گیا تو تاوان آئے گا کیوں کہ گزرنے والے کی تعدی ہے کہ شریعت نے سجدہ کی جگہ میں گزرنے کو منع کیا ہے اور اگر نماز میں مشغول نہیں تھا تو تاوان نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ اس کو نماز میں مشغول نہ ہونے کی وجہ سے گزرنے کا حق حاصل ہے ۔
شرح قواعد الفقہیہ میں ہے:

ما لو تلف بمروره بالطريق العام شيء أو أتلف دابته، بالطريق العام شيئا، بيدها أو فمها وهو راكبها أو سائقها أو قائدها فيضمن لأن مروره وإن كان مباحا لكنه مقيد بشرط السلامة. (شرح قواعد الفقهية، ص ٤۵۰).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.