کیا جبرئیل علیہ السلام معلمِ رسول ﷺ ہیں؟

5 min readFatwa Vol 1 #18Urdu
Vol. 1كتاب الإيمان والعقائدباب (۲): آنحضرت ﷺ کی سیرت و حالات کا بیان

Question

﴿علمه شديد القوى﴾
کے مصداق اصح قول کے مطابق جبریل امیں ہیں، تو کیا جبریل علیہ السلام کو معلمِ رسول ﷺ کہنا صحیح ہے یا نہیں؟

Answer

عرف میں معلم اس کو کہتے ہیں جو منقول کلام کے پڑھانے کے ساتھ اپنے اجتہادات و استنباطات کو بھی شامل کرتا ہو، اور جبریل علیہ السلام صرف کلامِ الہی یا وحی پہنچاتے تھے، اس لیے مفسرین میں سے اکثر نے "
علمه"
کے معنی "تبلیغ" یا "پہنچانا" یا "اتارنا" سے کیے ہیں
﴿علمه شديد القوي﴾ "بلغه"
اور "
أنزله"
کے معنی میں ہے ۔
اس لیے حضرت جبریل علیہ السلام کو معلمِ رسول ﷺ نہیں کہا جاتا ۔ ہاں
"علمه شديد القوي"
یا "
علمه جبريل"
کہ سکتے ہیں، لیکن وہاں عرفی تعلیم مراد نہیں بلکہ تبلیغ و اتارنا مراد ہے ۔
ملاحظہ ہو تنویر الاذہان میں ہے:

﴿علمه شديد القوى﴾ أي: نزل به عليه وقرأه عليه وبينه له. (تنوير الأذهان: ٤/ ۱۷۲).

تیسیر الکریم الرحمن میں ہے:

﴿علمه شديد القوى﴾ أي: نزل بالوحي علٰي رسول الله

ﷺ جبريل عليه السلام. (تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان، ص: ۷٦۰).

مواہب الرحمن میں ہے:
وحی جو اس پر نازل ہوئی وہ شدید القویٰ نے اس کو تعلیم دی یعنی پہنچائی ۔ (مواہب الرحمن: ۸/ ۵۲) ۔
نیز حدیثِ جبریل میں نبی پاک ﷺ نے فرمایا: "
فإنه جبرئيل أتاكم ليعلمكم دينكم". (رواه مسلم).

یہ نہیں فرمایا: "
أتاني يعلمني".

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
سوال: جبرئیل آنحضرت ﷺ کے استاذ تھے یا محض مبلغ و قاصد؟
جواب: نصوصِ شرعیہ قطعیہ سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو خود حق تبارک تعالی نے تعلیم دی ہے ۔ اور آپ کا مربی و معلم براہِ راست دستِ قدرت ہے ۔ جبرئیل درمیاں میں محض واسطہ تبلیغ ہیں جیسے بڑی جماعتوں میں مقتدی مکبر کی آواز سن کر رکوع و سجدہ کرتے ہیں تو مکبر ان کے امام نہیں کہلائیں گے ۔ نیز کوئی استاذ کسی مسئلہ کا حل ڈاک میں بھیج دے تو چٹھی رساں کو استاذ و معلم نہیں کہتے اور یہی وجہ ہے کہ حضرت جبرئیل کو الفاظ بدل دینے کا اختیار نہ تھا ۔
دلیل اس کی خود سورۂ علق کی آیات ہیں کہ لفظ "
أقرأ"
کے ساتھ یہ بھی مذکور ہے "
باسم ربك"
جس سے اشارہ ہے اس کی طرف کہ حق تعالی آپ کا تربیت کرنے والا ہے، وہی آپ کو تعلیم دیگا ۔ نیز
﴿اقرأ وربك الأكرم الذي علم بالقلم علم الإنسان ما لم يعلم﴾
میں خود حضرتِ حق کو معلم ظاہر کر کے بتلا دیا گیا ہے کہ حق تعالی ہی آپ کو تعلیم دیں گے اور در حقیقت یہ آیت جواب ہے اس بات کا جو ابتداء میں آپ نے فرمائی تھی کہ میں قاری نہیں تو اس پر فرمایا گیا کہ اصل سے قاری نہیں مگر آپ کا رب ایسا اکرم ہے کہ وہ لکھے پڑھوں کو تعلیم بذریعہ قلم دیتا ہے اسی طرح بلا واسطہ قلم و کتابت بھی تعلیم دے سکتا ہے ۔
روح المعانی میں ہے:

فكما علم سبحانه القاري بواسطة الكتابة بالقلم يعلمك بدونها وحقيقة الكرم إعطاء ما ينبغي لا لغرض (إلى قوله) والإشعار بأنه تعالى يعلمه عليه الصلاة والسلام من العلوم ما لا يحيط به العقول ما لا يخفى. (روح المعاني: ۳/ ۱۸۰).

معلوم ہوا کہ معلم و استاذ نبی کریم ﷺ کے جبریل نہیں بلکہ آپ کی تعلیم کا تکفل خود حضرتِ حق جل وعلا نے کیا ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند، از مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ: پنجم و ششم، ص ۱٤۹ ۔ ۱۵۱، مکتبہ امدادیہ) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ ﷺ کے استاذ نہیں تھے بلکہ محض مبلغ و سفیر اور قاصد کا درجہ رکھتے تھے ۔ بلکہ قرآنِ کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان یعنی آدم علیہ السلام معلمِ ملائکہ ہیں ۔

قال الله تعالى: ﴿وعلم آدم الأسماء كلها فلما أنبأهم بأسمائهم﴾ (سورة البقرة: ۳۲، ۳۳).

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.