حضرت جبرئیل علیہ السلام کا افضل الملائکہ ہونا:
Question
یہ بات مشہور ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام تمام ملائکہ میں افضل ہے، کیا یہ صحیح ہے یا نہیں ؟ اگر صحیح ہے تو اس کی کوئی دلیل موجود ہے یا نہیں ؟ اگر ہو تو برائے مہربانی بتلا دیں؟
Answer
حضرت جبرئیل علیہ السلام تمام فرشتوں میں افضل ہیں اور یہ بات قرآنِ کریم کی بہت ساری آیات اور احادیثِ کثیرہ سے مستفاد ہے اور اس پر اجماعِ امت ہے۔ حضرت حسان بن ثابت
رضي الله عنه
نے حضرت نبی پاک ﷺ کی تعریف میں کچھ اشعار پڑھے، ان اشعار میں یہ بھی ہیں:
وجبريل رسول الله فينا
ژ
و روح القدس ليس له كفاء
انہوں نییہ اشعار نبی ﷺ کے سامنے پڑھے، معلوم ہوا کہ ملائکہ میں حضرت جبرئیل کی مثال نہیں۔ یہ اشعار مسلم شریف جلد ثانی، ص، ۳۰۱، ط: قدیمی، باب فضائل حسان بن ثابت رضی الله عنه میں مذکور ہیں۔
طبرانی کبیر میں روایت ہے:
عن ابن عباس رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: ألا أخبركم بأفضل الملائكة جبريل عليه السلام
(المعجم الكبير: ۱۱/۱٦۰/۱۱۳٦۱). قال الهيثمي (۲/۱٦۰): فيه نافع أبو هرمز، وهو ضعيف.
بخاری شریف میں ہے:
عن معاذ بن رفاعة الزرقي، عن أبيه، وكان أبوه من أهل بدر، قال: جاء جبريل إلى النبي ﷺ فقال: ما تعدون أهل بدر فيكم قال: من أفضل المسلمين، أو كلمة نحوها، قال: وكذلك من شهد بدراً من الملائكة. (صحيح البخاري: ۲/۵٦۹).
بخاری شریف کی روایت سے معلوم ہوا کہ غزوۂ بدر میں شرکت کرنے والے فرشتے دیگر فرشتوں سے افضل ہیں اور بدری فرشتوں کے امیر حضرت جبرئیل تھے، معلوم ہوا کہ وہ فرشتوں میں سب سے افضل ہیں۔
نیز حافظ ابن حجر رحمه الله نے چند روایات نقل کی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام غزوۂ بدر میں پیش پیش تھے۔ ملاحظہ ہو: (فتح الباری:
۷
/
۳۱۳
، باب شہود الملائکۃ بدراً)۔
بخاری شریف کی ایک روایت سے پتا چلتا ہے کہ جبرئیل علیہ السلام اللہ تبارک و تعالی کے قریب ہیں بہ نسبت دیگر فرشتوں کے۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: إذا أحب الله العبد نادي جبريل إن الله يحب فلاناً فأحببه فيحبه جبريل فينادي جبريل في أهل السماء إن الله يحب فلاناً فأحبوه فيحبه أهل السماء ثم يوضع له القبول في الأرض. (صحيح البخاري: ۲/۸۹۲).
اس روایت سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ حضرت جبریل علیہ السلام جس طرح انبیاء علیہم السلام کی طرف وحی لانے والے رسولِ امین ہیں اسی طرح اللہ تعالی اور فرشتوں کے درمیان بھی قاصد ہیں۔
نیز معراج سے واپسی پر نبی ﷺ کی امامت جبریل نے فرمائی۔
أخرج أبو داود والترمذي أن رسول الله ﷺ قال: أمني جبريل عليه السلام عند البيت مرتين. الخ.
حضرت جبرئیل علیہ السلام کی فضیلت میں بعض آیاتِ کریمہ ملاحظہ کیجیے:
قل من كان عدواً لجبريل فإنه نزله على قلبك بإذن الله مصدقاً لما بين يديه وهدي وبشري للمؤمنين. [البقرة: ۹۷].
اللہ تعالی نے عام فرشتوں کے تذکرہ کے بعد بطورِ خاص حضرت جبریل کا تذکرہ فرمایا:
من كان عدواً لله وملائكته ورسله وجبريل وميكال فإن الله عدو للكافرين. (البقرة: ۹۸)،
تنزل الملائكة والروح فيها. (القدر: ٤)،
اللہ تعالی نے حضرت جبریل علیہ السلام کی عمدہ صفات بیان فرمائی:
إنه لقول رسول كريم ذي قوة عند ذي العرش مكين، مطاع ثم أمين. (التكوير: ۲۱).
وقال تعالى: وإنه لتنزيل رب العلمين، نزل به الروح الأمين. (الشعراء: ۱۹۵).
وقال: علمه شديد القوي، ذو مرة، فاستوي، وهو بالأفق الأعلى. (النجم: ۷).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.