گیارہ مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھنے کی فضیلت تحقیق:
Question
حدیث
"من مر علي المقابر فقرأ: ﴿قل هو الله أحد﴾ إحدى عشر مرة ثم وهب أجره للأموات أعطي من الأجر بعدد الأموات"
اس پر غیر مقلدین حضرات کلام کرتے ہیں اس کی تحقیق مطلوب ہے؟
Answer
حدیث شریف ملاحظہ ہو:
قال أبو محمد الخلال: حدثنا أحمد بن إبراهيم بن شاذان ثنا عبد الله بن أحمد بن عامر الطائي (متهم بالوضع) حدثني أبي ثنا علي بن موسى عن أبيه موسى عن أبيه جعفر عن أبيه محمد عن أبيه على عن أبيه الحسين عن أبيه على بن أبي طالب رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "من مر على المقابر وقرأ: ﴿قل هو الله أحد﴾ إحدى عشر مرة ثم وهب أجره للأموات أعطي من الأجر بعدد الأموات". (من فضائل سورة الإخلاص وما لقارئها: ۱/۱۰۲/۵٤).
یہ روایت بظاہر صحیح نہیں ہے اس میں ایک راوی عبد اللہ بن احمد بن عامر ہے محدثین نے ان پر کلام کیا ہے نیز یہ اپنے آباء و اجداد سے موضوع روایات نقل کرتے ہیں اور ان پر شیعہ ہونے کی تہمت بھی ہے ۔ ملاحظہ ہو:
میزان الاعتدال میں ہے:
عبد الله بن أحمد بن عامر عن أبيه عن علي الرضا عن آبائه بتلك النسخة الموضوعة الباطلة ما تنفك عن وضعه أو وضع أبيه، قال الحسن بن علي الزهري: كان أمياً لم يكن بالمرضي روي عنه الجعابي وابن شاهين وجماعة. (ميزان الاعتدال: ۳/۱۰٤/٤۲۰۰، وهكذا في لسان الميزان: ۳/۲۵۲/۱۹۰۷).
حضرت علی رضي اللہ عنہ سے دوسرے طریق سے بھی مروی ہے لیکن اس میں بھی ایک راوی پر کلام ہے اس وجہ سے ضعیف ہے ۔ ملاحظہ ہو:
أخرجه الرافعي في "أخبار قزوين" (۲/۲۹۷) عن داود بن سليمان الغازي (كذاب): أنبأ على بن موسى الرضا: عن موسي بن جعفر به.
قلت: إسناده ضعيف جداً. فيه داود بن سليمان، قال الذهبي في "الميزان" (۲/۸): كذبه يحيى بن معين، ولم يعرفه أبو حاتم، وبكل حال فهو شيخ كذاب، له نسخة موضوعة على الرضا.
یہ حدیث اگر چہ ضعیف ہے لیکن فضائل میں ثواب کی نیت سے عمل کرنا درست ہے جب کہ سنت نہ سمجھے، البتہ بعض حضرات نے اس کو موضوع قرار دیا ہے، مگر تحقیقی بات یہ ہے کہ کسی حدیث میں راوی کے متہم بالوضع ہونے سے اس روایت پر موضوع کا حکم لگانا درست نہیں، ہاں جب یقیناً معلوم ہو کہ یہ روایت اس نے وضع کی ہے تب اس کو موضوع کہا جائے گا ۔
ملاحظہ فرمائیں محدثِ جلیل حضرت مولانا حبیب الرحمن الاعظمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
پندرہویں شعبان کے روزے کے بارے میں جو حدیث ابن ماجہ میں آئی ہے وہ موضوع نہیں ہے کسی ماہر حدیث نے اس کو موضوع نہیں کہا ہے، "تحفۃ الاحوذی" کی عبارت سے اس حدیث کے موضوع ہونے پر استدلال کرنا جہالت ہے، اس حدیث کے راویوں میں ابوبکر بن ابی سبرہ ضرور ہے اور اس کی نسبت بیشک یہ کہا جاتا ہے کہ وہ حدیثیں بناتا تھا، لیکن اس بات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ زیر بحث حدیث اس کی بنائی ہوئی ہے اور موضوع ہے، محض اس بنا پر کہ سند میں ایسا کوئی راوی موجود ہے جو حدیثیں بناتا تھا کسی حدیث کو موضوع کہ دینا جائز نہیں ہے، اس سے تو بس اتنا لازم آئے گا کہ حدیث سنداً ضعیف ہے ۔ (مجلہ المآثر ص ٦۹ ۔ ۷۰، ۱۹۹۵ء) ۔
نیز موضوع کہنے والوں کی سخت تردید فرمائی ہے ۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (مجلہ المآثرص٦۸ ۔ ۷٤، ۱۹۹۵ء) ۔
اسی وجہ سے فقہاء اور شراحِ حدیث نے اس حدیث کو ذکر فرمایا ہے ۔ ملاحظہ ہو:
علامہ شامی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:
وروي أيضاً عن علي رضي الله عنه ﷺ قال: "من مر على المقابر وقرأ ﴿قل هو الله أحد﴾ إحدى عشرة مرة ثم وهب أجرها للأموات اعطي من الأجر بعدد الأموات". (رد المحتار: ۲/۵۹٦، سعيد)
حافظ ابن ہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ما رواه أيضا عن علي رضي الله عنه عنه ﷺ أنه قال: "من مر على المقابر وقرأ ﴿قل هو الله أحد﴾ إحدى عشرة مرة ثم وهب أجرها للأموات اعطي من الأجر بعدد الأموات". (فتح القدير: ۳/۱٤۳، دار الفكر).
علامہ شرنبلالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وعن علي أن النبي ﷺ قال: "من مر على المقابر وقرأ ﴿قل هو الله أحد﴾ إحدى عشرة مرة ثم وهب أجرها للأموات أعطي من الأجر بعدد الأموات". رواه الدارقطني. (مراقي الفلاح: ص ۲۳۳).
مواهب الجليل
میں ہے:
ثم ذكر عن القرطبي من حديث على رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "من مر على المقابر وقرأ ﴿قل هو الله أحد﴾ إحدى عشرة مرة ثم وهب أجرها للأموات اعطي من الأجر بعدد الأموات". (مواهب الجليل في شرح مختصر الخليل: ۳/۵۱).
مطالب أولى النهي
میں ہے
:
وأخرج السمرقندي عن علي رضي الله عنه مرفوعاً "من مر على المقابر وقرأ ﴿قل هو الله أحد﴾ إحدى عشرة مرة ثم وهب أجرها للأموات أعطي من الأجر بعدد الأموات". (مطالب أولى النهي في شرح غاية المنتهى: ۵/۹)
مزید ملاحظہ ہو: (
تحفة الأحوذي: ۳/۲۷۵، باب ما جاء في الصدقة عن الميت، والمرقاة: ۵/٤٦٤، باب دفن الميت، ومنح الجليل: ۱/۵۰۷، وتبيين الحقائق، والفقه الإسلامي وأدلته).
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.