مسجد میں سائل کو کچھ دینے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #384Urdu
Vol. 4كتاب الوقفباب (۲) ما يتعلق بالمساجد

Question

مسجد میں سائل کو مستحق سمجھ کر کچھ دینا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

آدابِ مسجد کا لحاظ رکھتے ہوئے اتفاقاً کسی نے سوال کیا اور کچھ دے دیا تو جائز ہے، ہاں اگر سائل نے مسجد میں سوال کرنے کی عادت بنا لی ہے تو نہیں دینا چاہیے، کہ یہ آدابِ مسجد کے خلاف ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں سنن ابی داود میں ہے:

عن عبد الرحمن بن أبي بكر رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: هل فيكم أحد أطعم اليوم مسكيناً، فقال أبو بكر رضي الله عنه: دخلت المسجد فأنا بسائل يسأل فوجدت كسرة خبز في يد عبد الرحمن فأخذتها فدفعتها إليه. (سنن أبي داود: ۱/۲۳۵).

فتح الملہم میں ہے:

قلت:

وقد قال بعض السلف: لا يحل إعطاء ه فيه لما في بعض الآثار "ينادي يوم القيامة ليقم بغيض الله فيقوم سؤال المسجد" وفصل بعضهم بين من يؤذي الناس بالمرور ونحوه فيكره إعطاء ه لأنه إعانة له على ممنوع وبين من لا يؤذي فيسن إعطاء ه لأن السؤال كانوا يسالون على عهد رسول الله ﷺ في المسجد. (فتح الملهم: ٤/۱٦۱).

فتاوی شامی میں ہے:

قال في النهر: المختار أن السائل إن كان لا يمر بين يدي المصلي ولا يتخطى الرقاب ولا يسال إلحافاً بل لامر لا بد منه فلا بأس بالسؤال والإعطاء ومثله في البزازية وفيها ولا يجوز الإعطاء إذا لم يكونوا على تلك الصفة المذكورة. (فتاوى الشامي: ۲/۱٦٤، سعيد. وكذا في بذل المجهود: ۸/۲۱۸. والفتاوى البزازية: ۱/۷٦. والفتاوى الحمادية: ٤/۷٦).

الدر المنضود میں ہے:
جمہور کے نزدیک سوال فی المسجد جائز اور اعطاء بھی جائز ہے مگر یہ کہ سائل کوئی بدعنوانی کرے تو پھر سوال و اعطاء دونوں ناجائز ہیں یہ مسلک تو ہے جمہور کا اور حنفیہ کے نزدیک سوال فی المسجد مطلقاً حرام ہے اور اعطاء میں دو قول ہیں: (
۱
) مطلقاً کراہت ۔ (
۲
) اعطاء میں کراہت اس وقت ہے جب کہ سائل تخطی رقاب کرے ورنہ نہیں اور اصح یہی ہے ۔ (
الدر المنضود: ۳/۱۲٦).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.