غیر مسلم کا مسجد میں عبادت کرنے کا حکم:
Question
اگر کسی مسجد میں عیسائیوں کا پادری آ کر عبادت کر لے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ اور اس کی اجازت دی جائے گی یا نہیں؟ جن روایات میں وفد نجران کا مسجد میں آنا اور وہاں عبادت کرنا مذکور ہے ان کی کیا حیثیت ہے؟
Answer
کفار کے مساجد میں داخل ہونے کے بارے میں مجتہدین کا اختلاف ہے، لیکن مسجد میں عبادت کرنے کی اجازت کس کے ہاں مروی نہیں ہے بلکہ ان کی عبادت عبادت ہی نہیں حقیقت میں شرک و خرافات ہیں، عبادت کے لیے نیت ضروری ہے جب کہ کفار میں نیت کی صلاحیت ہی نہیں اور جو روایت اس سلسلہ میں مروی ہے وہ متکلم فیہ ہے ایک تو محمد بن اسحاق پر کلام ہے، دوسرے ان کے استاذ محمد بن جعفر کی روایت معضل ہے کیوں کہ اس میں تابعی اور صحابی کا ذکر نہیں ہے، احناف کے ہاں اگر چہ خیر القرون میں انقطاع مضر نہیں، لیکن یہ روایت تو اصول (قرآن کریم کی آیات) کے خلاف ہے، ملا علی قاری رحمه الله نے فرمایا ہے:
ومنها: مخالفة الحديث لصريح القرآن كحديث مقدار الدنيا. (موضوعات كبير ص ۱٦۲).
یعنی جو حدیث قرآن کے مخالف ہو اور سند میں بھی کلام ہو وہ حدیث قبول نہیں ہو گی، بلکہ اس کے موضوعی ہونے کی علامت ہے اس حدیث میں یہ حصہ کہ نصاری نے مسجد میں عبادت کی قابل قبول نہیں، نیز یہ حدیث اصول کے بھی خلاف ہے، ملا علی قاری رحمه الله فرماتے ہیں:
ومنها: أن يكون الحديث مما تقوم الشواهد الصحيحة على بطلانه كحديث عوج بن عنق. (موضوعات كبير، ص ۱٦۰).
اس حدیث کے صحیح نہ ہونے پر بھی صحیح شواہد دلالت کرتے ہیں، لہذا اس روایت کا اتنا حصہ کہ انہوں نے مشرق کی طرف مسجد میں نماز پڑھی واجب الرد ہے یا اس میں تاویل کی جائے گی کہ مسجد سے مسجد کا وہ ملحقہ حصہ مراد ہے جو حقیقت میں مسجد نہیں بلکہ وہ حصہ ہے جس میں حبشی کھیلتے تھے، اور بعض لوگ کبھی کبھی اس میں اونٹ بھی باندھتے تھے اور مسجد سے ملحقہ میدان پر بکثرت مسجد کا اطلاق ہوتا ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں تفسیر قرطبی میں ہے:
صدر هذه السورة (أي سورة آل عمران) نزل بسبب وفد نجران فيما ذكر محمد بن إسحق عن محمد بن جعفر بن الزبير وكانوا نصاري وفدوا على رسول الله ﷺ بالمدينة في ستين راكباً فيهم من أشرافهم أربعة عشر رجلاً في الأربعة عشر ثلاثة نفر إليهم يرجع أمرهم العاقب أمير القوم وذو آرائهم واسمه عبد المسيح والسيد ثمالهم وصاحب مجتمعهم واسمه الأيهم وأبو حارثة بن علقمة أحد بكر بن وائل أسقفهم وعالمهم، فدخلوا على رسول الله ﷺ أثر صلاة العصر، عليهم ثياب الحبرات جبب وأردية، فقال أصحاب النبي ﷺ ما رأينا وفداً مثلهم جمالاً وجلالة، وحانت صلاتهم فقاموا فصلوا في مسجد النبي ﷺ إلى المشرق، فقال النبي ﷺ دعوهم
الخ. (تفسير القرطبي: ٤/۵).
وللاستزادة انظر: (
السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: ۲/۲۲٤) ۔
وفي فتح القدير للشوكاني: ما كان للمشركين أن يعمروا مساجد الله، والمراد بالعمارة إما المعنى الحقيقي أو المعنى المجازي وهو ملازمته والتعبد فيه وكلاهما ليس للمشركين أما الأول فلأنه يستلزم المنة على المسلمين بعمارة مساجدهم، وأما الثاني فلكون الكفار لا عبادة لهم مع نهيهم عن قربان المسجد الحرام. (فتح القدير: ۲/٦٦۲، الرياض).
وفي تيسير الكريم الرحمن: أن الله تعالى إنما جعل بيته الحرام ليقام فيه دينه، وتخلص له العبادة، فالمؤمنون هم الذين قاموا بهذا الأمر، وأما هؤلاء المشركون الذين يصدون عنه، فما كانت صلاتهم فيه التي هي أكبر أنواع العبادات ﴿إلا مكاء وتصدية﴾ أي صفيراً وتصفيقاً، فعل الجهلة الأغبياء، الذين ليس في قلوبهم تعظيم لربهم، ولا معرفة بحقوقه، ولا احترام لا فضل البقاع وأشرفها، فإذا كانت هذه صلاتهم فيه، فكيف ببقية العبادات؟!! (تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان، ص ۲۸۲).
وللاستزادة انظر: (التفسير المظهري: ٤/۱٤٦. وفتح القدير للشوكاني رحمه الله: ۱۰٤، الرياض، وكذا في تفسير المنار: ۱۰/۲۰٦. والتفسير المنير: ۱۰/۱۳۷).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.