خود رو گھاس فروخت کرنے کا حکم:
Question
ایک شخص کی زمین یا فارم ہے اس میں گھاس خود بخود اگتی ہے، دوسرے شخص کو اس کی ضرورت ہے وہ اس کو خریدنا چاہتا ہے، کیا زمین کے اندر ہوتے ہوئے خود رو گھاس کی بیع جائز ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ خود رو گھاس کی بیع جائز نہیں ہے، نبی آ کرم ﷺ کے فرمان کی وجہ سے
"الناس شركاء في ثلث في الماء والكلأ والنار"
تمام لوگ تین چیزوں سے فائدہ اٹھانے میں شریک ہیں پانی، گھاس اور آگ، لیکن اگر فارم کو پانی دیتا رہتا ہے یا وہ فارم گھاس ہی کے لیے مہیا کیا تھا تو پھر اس کی بیع جائز ہو گی ۔
ملاحظہ فرمائیں بلوغ المرام میں ہے:
وعن رجل من الصحابة ث قال: غزوت مع النبي ﷺ فسمعته يقول: الناس شركاء في ثلاث: في الكلأ والماء والنار". رواه أحمد وأبو داود ورجاله ثقات. (بلوغ المرام، ص ۲۷۲، باب إحياء الموات).
مجمع الانہر میں ہے:
ولا يجوز بيع المراعي
المراد بالمرعي الكلأ النابت في أرض غير مملوكة أو في أرض البائع بدون تسبب منه، قيدنا به لأنه لو تسبب في ذلك بأن سقي الأرض أو هيأها للإنبات جاز له بيع كلئها لأنه ملكه. (مجمع الأنهر: ۲/۵۷).
ہدایہ میں ہے:
ولا يجوز بيع المراعي ولا إجارتها، والمراد الكلأ أما البيع فلأنه ورد على ما لا يملكه لاشتراك الناس فيه بالحديث. (الهداية: ۳/۵٤).
ہدایہ کے حاشیہ میں علامہ عبد الحی لکھنوی رحمه الله (۱۲٦٤ ۔ ۱۳۰٤ ھ) فرماتے ہیں:
أما الحشيش الذي أنبته صاحب الأرض بأن سقي أرضه وكربها فأنبت الحشيش فيها لدوابه فهو أحق بذلك وليس لأحد أن ينتفع به إلا برضاه لأنه حصل بكسبه والكسب للمكتسب. (حاشية الهداية: ٤/٤۸۵، رقم الحاشية: ۵).
وللاستزادة انظر: الفتاوى الهندية: ۳/۱۰۹. والمحيط البرهاني: ۷/۲۹۱. وتبيين الحقائق: ٤/۳۷۱. والبحر الرائق: ٦/۱۲۷، رشيديه. وفتح القدير: ٦/۵٦، دار الفكر).
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب (۱۳۱٤ ۔ ۱۳۹٦ ھ) فرماتے ہیں:
جو گھاس آسمانی پانی سے خود بخود پیدا ہوتی ہے وہ کاٹنے سے پہلے مالک زمین کی ملک نہیں اور اس کو جائز نہیں کہ لوگوں کو اس کے کاٹنے سے منع کرے یا کسی نوکر کے ذریعہ اس کی حفاظت کرائے اور کاٹنے سے روکے اور جب اس کی ملک نہیں تو بیع بھی جائز نہیں، البتہ کاٹنے کے بعد بیع کر سکتا ہے اور یہ صورت بھی کر سکتا ہے کہ زمین ہی کو خیمہ لگانے یا اور کسی کام کے لیے اجارہ پر دے دے اور جس قدر قیمت گھاس کی یہ لینا چاہتا ہے اسی قدر بطورِ اجرت زمین کے وصول کرے،
قال في الدر المختار في البيوع الفاسدة
ثم قال وحيلته أن يستأجر الأرض لضرب قسطاطه أو لإيقاف دوابه أو لمنفعة أخري.
(امداد المفتین: جلد دوم، ٦۹۰) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
جو گھاس خود رو ہو اس کو بغیر کاٹے ہوئے فروخت کرنا مثلاً اس طرح کہ گائے وغیرہ کو وہاں چھوڑ دیا جائے وہ خود ہی چر لیں اور اس کا معاوضہ لے لیا جائے، یہ معاملہ شرعاً درست نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/۱۰۷، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.