خود رو گھاس پر عشر کا حکم:

1 min readFatwa Vol 3 #91Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۲):عشر اور خراج کا بیان

Question

اگر کسی کی زمین میں گھاس خود بخود اگتی ہے تو کیا اس میں عشر ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں خود رو گھاس پر عشر نہیں، البتہ اگر کسی نے گھاس مقصود بنا لیا ہو اور زمین کو اسی کے لئے خاص کر دیا ہو تو عشر واجب ہوگا ۔
ملاحظہ ہو فتاوی قاضی خان میں ہے:

ولا يجب العشر في التبن ولا في الحطب والحشيش. (فتاوى قاضي خان: ۱/۲۷٦، فصل في العشر).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

فلا عشر في الحطب والحشيش والقصب. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۸٦).

ہدایہ میں ہے:

قال أبو حنيفة رحمه الله في قليل ما أخرجته الأراضي وكثيره العشر سواء سقي سيحاً أو سقته السماء إلا القصب والحطب والحشيش. (الهداية: ۱/۲۰۱).

اہم فقہی فیصلے میں ہے:
بشمول گھاس و درخت وغیرہ پر ایسی زمینی پیداوار پر عشر واجب ہے جس کی پیداوار سے مقصود نما ء ہوتی ہے اور جیسے آمدنی کی غرض سے پیدا کیا جاتا ہے، لہذا تمام غذائی اجناس، میوہ جات، پھلو ں اور پھولوں پر عشر واجب ہے، البتہ خود رو درخت اور گھاس جن سے حصولِ آمدنی مقصود نہ ہو اس پر عشر واجب نہیں ۔ (اہم فقہی فیصلے، ترتیب: حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب رحمه الله، ص ٦۲، ادارۃ القرآن) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.