تمباکو کی کاشت اور اس کی تجارت کا حکم:
Question
تمباکو کی کاشت اور اس کی تجارت جائز ہے یا نہیں؟
Answer
تمباکو کی کاشت اور اس کی تجارت جائز ہے، اگر چہ تمباکو سگریٹ میں استعمال کیا جاتا ہے، لیکن سگریٹ کی حرمت مسلم نہیں ہے، نیز غیر مسلم زیادہ پیتے ہیں، البتہ اجتناب اولی اور بہتر ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
قلت: فيفهم منه "القاعدة: الأصل الإباحة" حكم النبات الذي شاع في زماننا المسمى بالتتن، فتنبه، وقد كرهه شيخنا العمادي في هديته إلحاقاً له بالثوم والبصل بالأولى فتدبر، وفي رد المحتار: قوله فيفهم منه حكم النبات "وهو الإباحة على المختار أو التوقف وفيه إشارة إلى عدم تسليم إسكاره وتفتيره وإضراره، وإلا لم يصح إدخاله تحت القاعدة المذكورة ولذا أمر بالتنبه. قوله وقد كرهه شيخنا العمادي في هديته، أقول: ظاهر كلام العمادي أنه مكروه تحريماً ويفسق متعاطيه
ورد عليه سيدنا عبد الغني في شرح الهدية
فقول الشارح إلحاقاً له بالثوم والبصل فيه نظر، إذ لا يناسب كلام العمادي، نعم إلحاقه بما ذكر هو الإنصاف، قال أبو السعود: فتكون الكراهة تنزيهية، والمكروه تنزيهاً يجامع الإباحة، وقال ط: ويؤخذ منه كراهة التحريم في المسجد للنهي الوارد في الثوم والبصل وهو ملحق بهما، والظاهر كراهة تعاطيه حال القراءة لما فيه من الإخلال بتعظيم كتاب الله تعالى. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤٦۰، ٤٦۱، كتاب الأشربة، سعيد).
وفي الدر المختار: وصح بيع غير الخمر ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون، وفي الشامية: قوله ومفاده أي مفاد التقييد بغير الخمر، ولا شك في ذلك لا نهما دون الخمر وليسا فوق الأشربة المحرمة، فصحة بيعها يفيد صحة بيعهما فافهم. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/٤۵٤، كتاب الأشربة، سعيد).
تالیفاتِ رشیدیہ میں ہے:
تمباکو خوردنی اور نوشیدنی کی تجارت جائز ہے مگر اولی نہیں ہے ۔ (تالیفاتِ رشیدیہ: ٤۰۱) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
تمباکو کی تجارت جائز ہے اور اس کا نفع استعمال میں لانا حلال ہے ۔ (کفایت المفتی: ۹/۱٤۸) ۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
تمباکو کے سلسلہ میں معتدل اور درست رائے یہ ہے کہ اس کا کھانا مکروہ ہے اور جو چیز خود مکروہ ہو اس کو فروخت کرنا بھی مکروہ ہے، اس لیے تمباکو فروشی حرام تو نہیں ہے لیکن کراہت سے بھی خالی نہیں ہے ۔ (کتاب الفتاوی: ۵/۲۰۳) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
تمباکو کی کاشت بھی جائز ہے، تجارت بھی جائز ہے استعمال بھی جائز ہے، الا یہ کہ وہ نشہ آور ہو تب منع کیا جائے گا، مسجد میں جانے کے لیے منہ صاف کر کے اس کی بدبو کو زائل کرنے کا اہتمام کیا جائے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۲٤/۱٦۲، مکتبہ محمودیہ) ۔
معلم الفقہ میں ہے:
سوال: کھانے اور پینے کی تمباکو کی تجارت بغرض حصول منفعت و فراغت معاش کرنا درست ہے یا نہیں؟
جواب: درست ہے علامہ ابراہیم بن حسین رحمہما اللہ تعالی الشہیر بہ بیری زادہ حنفی مکی اپنے رسالہ
"رفع الالتباك في حكم تعاطي شجرة التنباك"
میں لکھتے ہیں: "
أما بيعها وشراؤها فيجوز لإمكان الانتفاع بها في غير الشرب بدليل تقييد الأصحاب عدم الجواز في مثلها بما لا ينتفع به"
۔ یعنی تمباکو کی بیع و شراء جائز ہے کیوں کہ پینے کے علاوہ دوسرے منافع بھی اس سے حاصل کیے جاتے ہیں اس کی دلیل یہ ہے کہ عدم جواز کے واسطے یہ قید ہے کہ اس چیز سے نفع نہ اٹھایا جا سکے ۔ (معلم الفقہ ترجمہ اردو مجموعۃ الفتاوی: ۲/۱٤۲) ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے: تمباکو کی تجارت درست ہے مگر چونکہ حقہ کے جواز میں اختلاف ہے اور اکثر اس کو مکروہ کہتے ہیں اس لیے پینے کی تمباکو کی تجارت سے پرہیز چاہیے ۔ (معلم الفقہ: ۲/۱٤۰) ۔
اسلام اور جدید معاشی مسائل میں ہے:
بیع کے بارے میں اصول یہ ہے کہ جس شے کا کوئی جائز استعمال ممکن ہو اس کی بیع جائز ہے چاہے وہ چیز عام طور سے ناجائز کام میں استعمال ہوتی ہو ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل، ٤/۱۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.