لوہے کے بت کی تجارت کا حکم ـ:

4 min readFatwa Vol 5 #63Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۱، ۲، ۳): جائز اور ناجائز خرید و فروخت کے احکام

Question

اگر کوئی شخص لوہے کا بنا ہوا بت بیچتا ہے تو یہ تجارت جائز ہے یا نہیں؟ اگر ناجائز ہو تو صرف لوہے یا پیتل کا حساب لگا کر فروخت کرے تو کیا حکم ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ لوہے کا بت بیچنا ناجائز ہے، اور صرف لوہے کا حساب لگا کر بیچنے سے بھی احتراز کرنا چاہیے، اس لیے کہ مشتری اس کو غالباً معصیت میں استعمال کرے گا، اگر چہ لوہا پیتل دوسری چیزوں میں بھی استعمال ہوتا ہے، ہاں اس کو شکستہ کر کے فروخت کرنا جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه أنه سمع رسول الله ﷺ يقول عام الفتح وهو بمكة: "إن الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام. (رواه البخاري، باب بيع الميتة والأصنام، ۱/۲۹۸).

عمدۃ القاری میں ہے:

لا يجوز بيع الميتة والأصنام لأنه لا يحل الانتفاع بها ووضع الثمن فيها إضاعة المال، وقد نهي الشارع عن إضاعته، قلت: على هذا التعليل إذا كسرت الأصنام وأمكن الانتفاع برضاضها جاز بيعها عند بعض الشافعية وبعض الحنفية. (عمدة القاري: ۸/۵٦۹، باب بيع الميتة والأصنام، ملتان).
وفي سبل السلام: وأما علة تحريم بيع الأصنام فقيل لا نها لا منفعة فيها مباحة، وقيل إن كانت بحيث إذا كسرت تنفع بأكسارها جاز بيعها والأولى أن يقال: لا يجوز بيعها وهي أصنام للنهي ويجوز بيع كسرها إذ هي ليست بأصنام ولا وجه لمنع بيع الأكسار أصلاً. (سبل السلام: ۳/۵، كتاب البيوع، لمحمد بن إسمعيل الصنعاني).
وفي شرح السنة للإمام البغوي رحمه الله: وفي تحريم بيع الأصنام دليل على تحريم بيع جميع الصور المتخذة من الخشب والحديد والذهب والفضة وغيرها، وعلى تحريم بيع جميع آلات اللهو والباطل مثل الطنبور والمزمار والمعازف كلها، فإذا طمست الصور، وغيرت آلات اللهو عن حالتها، فيجوز بيع جواهرها وأصولها، فضة كانت أو حديداً أو خشباً أو غيرها. (شرح السنة للإمام البغوي: ۸/۲۸، المكتب الإسلامي).

در مختار میں ہے:

قال اشتري ثوراً أو فرساً من خزف لا جل استئناس الصبي لا يصح، وفي الشامية: قوله من خزف أي طين قال ط: قيد به لا نها لو كانت من خشب أو صفر جاز اتفاقاً فيما يظهر لا مكان الانتفاع بها وحرره. وهو ظاهر. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۵/۲۲٦، باب المتفرقات، سعيد).

کتاب الفتاوی میں ہے:
مورتیاں بنانا اور ان کا بیچنا دونوں ہی حرام ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی ناجائز ہے ۔ (کتاب الفتاوی: ۵/۲٦۸) ۔
جواہر الفتاوی میں ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بت سازی اور بتوں کی خرید و فروخت اور اس کے دام استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے اس لیے مختلف شکلوں کے مجسمے اور مورتی بنانا ناجائز اور حرام ہے اور نہ ہی اس کی خرید و فروخت جائز ہے خواہ مجسمے سونے چاندی کے ہوں یا تانبا پیتل کے ہوں یا پتھر اور پلاسٹک کے یا کسی دوسری دھات کے ۔ (جواہر الفتاوی: جلد سوم، ۲۱۰) ۔
ایضاح المسائل میں ہے:
تانبا، پیتل، اسٹیل وغیرہ دھات یا لکڑی کے مجسموں کو بنانا تو بالکل حرام ہے، مگر اس کی تجارت میں اگر مقصود مالیت ہی ہوتا ہے، اور شکل و صورت اصل مالیت کے تابع ہوتی ہے، اور لین دین کا سارا معاملہ وزن اور تول سے ہوا کرتا ہے، ایسی صورت میں اس تجارت کا پیسہ بالکل حرام تو نہیں ہوگا، مگر تعاون علی المعصیت کی وجہ سے مکروہ اور مشکوک پیسہ ہوگا، اس لیے ان اشیاء کا کاروبار ایک تاجر دوسرے سے لے کر بھی نہ کرے، اور اگر مقصد مالیت نہیں بلکہ تصویر اور شکلیں ہیں تو تجارت اور پیسہ سب حرام ہیں ۔ (ایضاح المسائل، ص۱۵٦) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (ایضاح النوادر: حصہ اول، ص۷۹ ۔ ۸٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.