زائد مبیع برآمد ہونے پر واپسی کا حکم:
Question
زید سنار کے پاس گیا کہ مجھے زیور فروخت کرنا ہے، سنار نے بتایا کہ اس زیور میں دو اونس سونا ہے، باقی کھوٹ ہے، دو اونس کی قیمت ۱۰ ہزار رینڈ ہے، ایک اونس ۵ ہزار کا ہے، گلانے کے بعد پتا چلا کہ اس میں خالص سونا ڈھائی اونس ہے، اب زائد سونے کی قیمت مالک کو پہنچانا ضروری ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ زائد سونے کی قیمت کا مالک کو پہنچانا ضروری ہے، ہاں، اگر زیور تولنے کے بعد سنار نے یہ کہا کہ اس زیور میں جتنا بھی سونا ہو اس کی قیمت دس ہزار رینڈ ہے، تو پھر زائد قیمت کا پہنچانا ضروری نہیں ہے ۔
ملاحظہ فرمائے صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
ومن ابتاع صبرة طعام على أنها مائة قفيز بمائة درهم
وإن وجدها أكثر فالزيادة للبائع. (الهداية: ۳/۲۲).
وقال بعتكها على أنها مائة ذراع بمائة دراهم كل ذراع بدرهم
وإن وجدها زائدة فهو بالخيار إن شاء أخذ الجميع كل ذراع بدرهم وإن شاء فسخ البيع، لا نه إن حصل له الزيادة في الذراع تلزمه زيادة الثمن. (الهداية: ۳/۲۳).
موسوعة الفقهية الكويتية
میں ہے:
إذا ظهر نقص أو زيادة فيما بيع مقدراً بكيل أو وزن أو ذراع أو عد فإن كان الثمن مفصلاً، كما لو قال: كل ذراع بدرهم، فالزيادة للبائع. (الموسوعة الفقهية: ۹/۲٤).
وإذا باع البيع جزافاً فلا أثر لظهور النقص أو الزيادة عما توقعه المشتري أو البائع. (الموسوعة: ۹/۲٤).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.