اللہ صاحب کہنے کا حکم:
Question
اللہ سبحانہ تعالی کے لیے لفظ صاحب استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اسی طرح لفظِ حضرت کا استعمال کیسا ہے؟
Answer
اللہ رب العزت کے لیے کن الفاظ کا استعمال صحیح ہے اور کن الفاظ کا نہیں اس کا مدار عرف پر ہے، اور یہ الفاظ چونکہ ہمارے عرف میں اللہ تعالی کے لیے مستعمل نہیں ہیں اس لیے بچنا چاہیے۔
حضرت مولانا یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
پرانے زمانے کی اردو میں "اللہ صاحب فرماتا ہے" کے الفاظ استعمال ہوے ہیں مگر جدید اردو میں ان کا استعمال متروک ہو گیا گویا، اُس (پرانے) زمانے میں یہ تعظیم کا لفظ سمجھا جاتا تھا مگر جدید زبان میں یہ اتنی تعظیم کا حامل نہیں رہا کہ اسے اللہ تعالی کے لیے یا انبیاءِ کرام اور صحابہ و تابعین کے لیے استعمال کیا جائے۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۸/۳٤۳)۔
چنانچہ حضور ﷺ کے لیے "حضرت مولانا" کا لفظ استعمال نہیں کرتے اگر چہ لغت کے اعتبار سے معنی میں کوئی خرابی نہیں، ٹھیک اسی طرح صاحب کا لفظ اللہ تعالی کے لیے نہ استعمال کیا جائے، اللہ تعالی کے لیے سبحانہ و تعالی کے الفاظ استعمال کرنا بہتر ہے بے شک پہلے اللہ صاحب استعمال ہوا ہے لیکن بعد میں متروک ہو گیا۔ نیز تعظیمی الفاظ کا استعمال عرف پر مبنی ہوتا ہے، مثلاً عرف میں برخوردار بیٹے کے لیے استعمال ہوتا ہے حالانکہ برخوردار کے معنی فائدہ اٹھانے والے کے ہیں۔ نیز عرف میں سرپرست کا لفظ نگران کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اچھا سمجھا جاتا ہے، حالانکہ لغوی اعتبار سے اس کے معنی ہیں جس کے سر کی پرستش کی جائے، چونکہ عرف میں اللہ صاحب متروک ہو چکا ہے اس لیے اب اس کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
حاصل یہ ہے کہ جیسے نبی علیہ الصلاۃ و السلام کے لیے منقول تعظیمی الفاظ استعمال کرنا چاہیے، اسی طرح اللہ تعالی کے لیے بھی وہی الفاظ استعمال کرنا چاہیے جو سلفِ صالحین سے مسلسل چلے آر ہے ہیں یا معروف ہیں۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ: ۱/۲٦۷، بحوالہ: الیواقیت للشیخ عبد الوہاب الشعرانی، ص ۷۸۔ و امداد الفتاوی: ٤/۵۱۳، مسائل شتی)۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.