دلائل الخیرات بطورِ وظیفہ پڑھنے کا حکم:
Question
دلائل الخیرات بطورِ وظیفہ پڑھنا کیسا ہے؟
Answer
امداد الفتاوی میں ہے:
سوال: دلائل الخیرات کے پڑھنے پڑھانے کے لیے اجازت لینا ضروری ہے یا نہیں اور جو شخص بغیر اجازت اور بغیر سند حاصل کیے ہوے پڑھتا پڑھاتا ہو اس کے واسطے کیا ارشاد ہے؟
جواب: جائز تو ہے مگر وہ فائدہ نہ ہوگا جو اجازت سے ہوتا ہے اگر بلا اجازت بھی کوئی شخص پڑھتا پڑھاتا ہو وہ بھی نفع سے خالی نہ ہوگا۔ فقط واللہ اعلم بندہ رشید احمد گنگوہی۔
تشریح جوابِ بالا: فائدہ کی دو قسمیں ہیں ایک اجر و ثواب دوسرے کیفیت باطن پس بلا اجازت پڑھنے سے اجر و ثواب میں ذرہ برابر کمی نہیں ہوتی البتہ کیفیت باطن میں تفاوت ہوتا ہے۔ یہ تفصیل ہے حضرت مولانا کے جواب کی۔ واللہ اعلم کتبہ محمد اشرف علی عفی عنہ ۲ محرم ۱۳۲۳ ھ۔ (امداد الفتاوی:
۳
/
۱٤۰
) ۔
مذکورہ عبارت سے معلوم ہوا کہ دلائل الخیرات کو بطور وظیفہ پڑھنا صحیح ہے۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.