اخباری معمہ حل کرنے پر انعام کا حکم:
Question
بہت سی مرتبہ اخبارات میں شائع ہوتا ہے کہ فلاں چیز کا مطلب بیان کر دے یا فلاں معمہ حل کر دے تو اتنا انعام ملے گا، جب کہ کوئی فیس وغیرہ اخبار کے ساتھ ادا نہیں کی جاتی تو یہ انعام لینا درست ہے یا نہیں؟ ہاں اخبار خریدنا پڑتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
اخبار میں انعامی اسکیم شائع ہوتی ہے اس کو حل کرنے پر انعام حاصل کرنا جائز اور درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں یہ یک طرفہ چیز ہے نہ اس میں قمار ہے اور نہ سود ۔ اور جو رقم اخبار خریدنے میں خرچ ہوئی اس کے عوض اخبار مل گیا ۔
ملاحظہ ہو تنویر الابصار میں ہے:
حل الجعل إن شرط المال من جانب واحد
وفي الشامية: جواز الجعل فيما ذكر استحسان. (تنوير الأبصار مع فتاوى الشامي: ٦/٤۰۲، كتاب الحظر والإباحة، سعيد).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وحرم شرط الجعل من الجانبين، لا من أحد الجانبين،
وإذا شرط من جانب واحد بأن يقول إن سبقتني فلك على كذا، وإن سبقتك فلا شيء لي عليك جاز استحساناً. (الفتاوى الهندية: ٦/٤٤۵، مسائل شتى).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اخبار میں شائع ہوا کہ جو شخص فلان چیز کا مطلب بیان کر دے یا فلاں مسئلہ کو حل کر دے تو اس کو اتنا انعام دیا جائے گا، پھر کسی نے اس کو حل کر دیا اور انعام ملا تو یہ انعام اس کی ملک ہے اس میں کوئی اشکال نہیں کیوں کہ یک طرفہ چیز ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/٤٤۳، جامعہ فاروقیہ) ۔
فتاوی عثمانی میں ہے:
اگر بچوں سے انعام یا قرعہ اندازی میں شرکت کے لیے کوئی فیس وصول نہیں کی گئی تو یہ قمار نہیں ہے، اور قرعہ اندازی تقسیمِ انعامات کے لیے جائز ہے ۔ (فتاوی عثمانی: ۳/۳٤۲) ۔
حلال و حرام میں ہے:
ہاں اگر معمہ بھیجنے والوں سے کوئی فیس نہ لی جائے تو یہ صورت درست ہو گی اور اس رقم کی حیثیت خالص انعام کی قرار پائے گی ۔ (حلال و حرام، ص ۳۸۱) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (مالی معاملات پر غرر کے اثرات، ص ٤۰۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.