سٹا بازی کا حکم:
Question
آج کل اکثر بڑی کمپنیوں میں سٹا کا کاروبار بامِ عروج پر ہے، شرعاً اس کی گنجائش ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
اس معاملہ کا مقصد شیئرز کی خریداری نہیں ہوتی ہے بلکہ بڑھتے گھٹتے دام کے ساتھ نفع نقصان کو برابر کر لینا مقصود ہوتا ہے، اس صورت میں معاملہ میں نہ تو خریدار کی طرف سے قیمت کی ادائیگی ہوتی ہے اور نہ بائع کی طرف سے مبیع کی حوالگی، لہذا یہ ناجائز ہے ۔
سٹا بازی قمار اور جوا کی ایک قسم ہے، لغت میں سٹا بازی کہتے ہیں (۱) ایک قسم کا جوا جس میں کسی بات کے متعلق حکم لگانے پر شرطیں کی جاتی ہیں، (۲) بیوپاری کا ایک سودا ۔ (فیروز اللغات، ۷۸۰) ۔
سٹا کے ناجائز ہونے کی دو وجوہات ہیں:
(۱) غیر مملوک کی بیع ۔
(۲) بیع قبل القبض ۔
دلائل کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤/۸۰ ۔ ۸۲ ۔ و جدید فقہی مباحث: ج ۱٦، و اسلام اور جدید معیشت و تجارت، ص ۸٤ ۔ ۱۱٤ ۔ و جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۱۰۸ ۔ و فتاوی عثمانی: ۳/۱۸٦ ۔ و غرر کی صورتیں، ۳۷۱ ۔ ۳۷٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.