مسلمان نائی کا غیر شرعی بال کاٹنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #306Urdu
Vol. 5كتاب الإجارةکرایہ داری کے مسائل کا بیان

Question

مسلمان نائی اگر کسی مسلمان کے بال غیر شرعی طور پر کاٹے یا ڈاڑھی کا حلق کرے تو اس مسلمان حجام کی کمائی کا کیا حکم ہوگا؟

Answer

شریعتِ مطہرہ میں ایک قبضہ کے بقدر ڈاڑھی رکھنا لازم ہے، یک مشت کے اندر کاٹنا، کٹانا دونوں کام بنگاہِ شریعت گناہ اور ناجائز ہیں ۔ بنا بریں مسلمان نائی کا غیر شرعی بال کاٹنا اور ڈاڑھی کا حلق کرنا اور اس کو پیشہ بنانا ناجائز ہے، اور اس کی آمدنی بھی ناجائز ہے، اس سے توبہ کرنا لازم اور ضروری ہے ۔
ملاحظہ ہو طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

والأخذ من اللحية وهو دون ذلك (القبضة) كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال لم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند، ومجوس الأعاجم. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ٦۸۱، كتاب الصوم، فصل فيما يكره للصائم، قديمي. وكذا في فتاوى الشامي: ۲/٤۱۸، كتاب الصوم، مطلب في الأخذ من اللحية، سعيد. وفتح القدير: ۲/۳٤۸، دار الفكر).

فتاوی بزازیہ میں ہے:

لا يحل للرجل أن يقطع اللحية. (الفتاوى البزازية على هامش الهندية: ٦/۳۷۹، كتاب الاستحسان).

جواہر الفقہ میں ہے:
باجماعِ امت ڈاڑھی منڈانا حرام ہے اسی طرح ایک قبضہ سے کم ہونے کی صورت میں کتروانا بھی حرام ہے ائمہ اربعہ حنفیہ مالکیہ شافعیہ حنبلیہ کا اس پر اتفاق ہے ۔

ويحرم على الرجل قطع لحيته الخ، وأما الأخذ منها وهي ما دون القبضة كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد. (فتح القدير والدر المختار). (جواهر الفقه: ۲/٤۲۳).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
ڈاڑھی منڈنا جائز نہیں ۔ یہ کام گناہ ہے اس کی آمدنی بھی مکروہ ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۷/۱۲۳، جامعہ فاروقیہ) ۔
آپ کے مسائل میں ہے:
حرام کام کی اجرت بھی حرام ہے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٦/٤۰) ۔
جدید مسائل کے شرعی احکام میں ہے:
واضح ہو کہ اپنی ڈاڑھی مونڈنا یا ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے ایسے ہی دوسرے کی ڈاڑھی مونڈنا مقدارِ مذکورہ سے کم کرنا بھی حرام ہے، ڈاڑھی مونڈنے کی اجرت وصول کرنا بھی حرام ہے، لہذا باربری کا پیشہ اختیار کرنے والے اپنی روزی حرام نہ کریں ۔

ومن آفات اليد حلق راس المرأة ولحية الرجل وقص أقل من قبضة ولو بإذن منه لأنه إعانة على معصية فيكون معصية أيضاً. (شرح الطريقة المحمدية: ۳/٤٤۷).

دونوں ہاتھوں کے گناہوں میں سے عورت کے سر کے بال یا مرد کی ڈاڑھی کا مونڈنا اور مٹھی سے کم کا تراشنا ہے چاہے یہ مونڈنا اور کترنا اس مرد یا عورت کی اجازت ہی کیوں نہ ہو کیوں کہ گناہ کے کام میں مدد کرنا ہے اور بھی گناہ ہے ۔
نیز "کشاف القناع" میں ہے کہ ڈاڑھی منڈوانے کے لیے کسی اجرت دینا یا اجرت کا لینا دونوں حرام ہیں ۔ (کشاف القناع: ٤/۹، ماخوذ از داڑھی کی اسلامی حیثیت) ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۲۰۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.