ڈاڑھی کٹانے والے کی امامت کا حکم:
Question
ڈاڑھی کٹانے والے کی امامت کا کیا حکم ہے؟
Answer
ایک مشت سے پہلے ڈاڑھی کٹانے والا یا چھوٹی رکھنے والا فاسق و فاجر ہے اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے لہذا دیندار متقی شخص کو امام بنانا چاہیے ۔
فتح القدیر میں ہے:
وأما الأخذ منها وهي دون ذلك أي بقدر المسنون وهو القبضة كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد. (فتح القدير: ۲/۳٤۸، كتاب الصوم، باب ما يوجب القضاء والكفارة)
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
أو تطويل اللحية إذا كانت بقدر المسنون، وهو القبضة، والأخذ من اللحية وهو دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال لم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند، ومجوس الأعاجم. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ص ٦۸۱، كتاب الصوم، فصل فيما يكره للصائم، قديمي. وهكذا في الشامي: ۲/٤۱۸، كتاب الصوم، مطلب في الأخذ من اللحية، سعيد)
شرح منیۃ المصلی میں ہے:
لو قدموا فاسقاً يأثمون بناء على أن كراهة تقديمه كراهة تحريم لعدم اعتنائه بأمور دينه وتسهله في الإتيان بلوازمه فلا يبعد منه الإخلال ببعض شروط الصلاة وفعل ما ينافيها بل هو الغالب بالنظر إلى فسقه. (شرح منية المصلي: ص ٥۱۳، فصل في الإمامة، سهيل. وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۸٥، الباب الخامس في الإمامة، الفصل الثالث في بيان من يصلح إماماً لغيره)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
ڈاڑھی ایک مشت رکھنا ضروری ہے ۔ شارحِ مشکوٰۃ حضرت شاہ عبد الحق محدثِ دہلوی رحمه الله فرماتے ہیں: وگذاشتنِ آں بقدرِ قبضہ واجب است یعنی ایک مشت ڈاڑھی رکھنا واجب ہے، مسنون اس لیے کہتے ہیں کہ دینی دستور اور تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت یعنی ان کا طریقہ اور سنتِ رسول اللہ
ﷺ
سے ثابت ہے ۔ (اشعث اللمعات: ۱/۲۸۸) یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کا درجہ بھی سنت کا ہے جس کے ترک پر گناہ ہو بلکہ اس کا ترک کرنا اور مسلسل ترک کرتے رہنا گناہ کبیرہ ہے ۔ اس لحاظ سے یہ امام فاسق ہے اور فاسق کی امامت مکروہ ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ:
۱/۱۷٥)
نیز ملاحظہ ہو: احسن الفتاوی: ۳/۲٦۰، باب الامامۃ و الجماعۃ ۔ و فتاوی محمودیہ: ٦/۱۲٤، فاسق کی امامت کا بیان ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.