مذاہبِ اربعہ کی روشنی میں ڈاڑھی کا حکم:

7 min readFatwa Vol 7 #98Urdu
Vol. 7باب (۵): ما يتعلق بأحکام الشعور والختان والخضاب و تقلیم الأظفار

Question

مذاہبِ اربعہ کی روشنی میں ڈاڑھی کا حکم:

Answer

مذہبِ احناف:
محقق ابن ہمام رحمه الله فرماتے ہیں:
وأما الأخذ منها وهي دون ذلك (القدر المسنون وهو القبضة) كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد. (فتح القدير: ۲/۳٤۸، كتاب الصوم، ط: دار الفكر).
وللمزيد راجع: (فتاوى الشامي: ۲/٤۱۸، سعيد، والبحر الرائق: ۲/۳۰۲، دار المعرفة، وجوب إعفاء اللحية للشيخ محمد زكريا الكاندهلوي، ص ۱۸. ۱۹،
و فتاوی محمودیہ مع التعلیقات:
۱۹
/
۳۹۲
۔
٤۰۲
، ط: جامعہ فاروقیہ، و رسالہ: ڈاڑھی اور انبیاء کی سنتیں، از مفتی سعید پالن پوری، و رسالہ: ڈاڑھی کی شرعی حیثیت، از مولانا حفظ الرحمن اعظمی، و احسن الفتاوی:
۹
/
۵۵
، و فتاوی رشیدیہ، ص
۵۷۵
، و فتاوی رحیمیہ:
۱
/
۱۷۵
، و فتاوی بینات:
٤
/
۳۷٤
۔
٤۰۲
) ۔
مذہبِ مالکیہ:

فإن قلت وما حكم القص عند عدم الطول أو الطول القليل؟ قلت صرح بعض الشراح بأنه يحرم القص إن لم تكن طالت كالحلق. (حاشية العدوي: ۲/۵۸۱، باب في بيان الفطرة).

مذہبِ شافعیہ:

سبق في الحديث أن إعفاء اللحية من الفطرة فالإعفاء بالمد قال الخطابي وغيره هو توفيرها وتركها بلا قص، كره لنا قصها كفعل الأعاجم قال: وكان من زي كسري قص اللحى وتوفير الشوارب. (المجموع شرح المهذب: ۱/۲۹۰، ط: دار الفكر).

مذہبِ حنابلہ:

وإعفاء اللحية بأن لا يأخذ منها شيئاً قال في المذهب ما لم يستهجن طولها ويحرم حلقها ذكره الشيخ تقي الدين ولا يكره أخذ ما زاد على القبضة. (كشاف القناع: ۱/۷۵، ط: دار الفكر).

ہاں جب ایک مشت سے بڑھ جائے تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے عمل کی بنا پر فقہاء نے اس کو کاٹنے کی اجازت دی ہے ۔

وكان ابن عمر إذا حج أو اعتمر قبض على لحيته فما فضل أخذه. (البخاري: ۲/۸۷۵).
وإعفاء اللحى، قال محمد عن أبي حنيفة تركها حتى تكث وتكثر والتقصير فيها سنة وهو أن يقبض الرجل لحيته فما زاد على قبضته قطعه. (الاختيار: ٤/۱۷۸، كتاب الكراهية).
وقال أصحابنا: الإعفاء تركها حتى تكث وتكثر والقص سنة فيها وهو أن يقبض الرجل لحيته فما زاد منها على قبضة قطعها كذلك ذكر محمد في كتاب الآثار عن أبي حنيفة رحمه الله قال: وبه نأخذ. (حاشية البحر الرائق للعلامة ابن عابدين الشامي رحمه الله: ۳/۱۱، ط: كوئته).

ڈاڑھی کی حدود حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:

"لحية"
کی تحقیق:
عربی میں
"لحي"
اس ہڈی کو کہتے ہے جس پر دانت ہوتے ہیں اور چونکہ ڈاڑھی اسی ہڈی پر پیدا ہوتی ہے اسی لئے ڈاڑھی کو
"لحية"
کہتے ہیں، پس اس ہڈی پر جو بال ہوں ان کو کٹوانا یا منڈانا جائز نہیں ہے ۔
مغرب میں مذکور ہے:
اللحي العظام الذي عليه الأسنان. (المغرب، ص: ۲٤٤).

لسان العرب میں ہے:
واللحي منبت اللحية من الأسنان وغيره

واللحيان حائطا الفم وهما العظمان اللذان فيهما الأسنان من داخل الفم من كل ذي لحي. (لسان العرب: ۱۵/۲٤۳).

فیض الباری میں مذکور ہے:
واللحية ما على اللحيين وكذلك في الهندية (
ڈاڑھی)
مشتق من (
ڈاڑھ
) لكونها نابتة على الأضراس. (فيض الباري: ٤/۳۸۰، باب قص الشارب).

امداد الفتاوی میں ہے:
کنپٹی کے نیچے جو ہڈی ابھری ہوئی ہے یہاں سے ڈاڑھی شروع ہے اس سے اوپر سر ہے ۔ (امداد الفتاوی:
٤
/
۲۲۱
) ۔
البحر الرائق میں ہے:

وفي شرح الإرشاد: اللحية الشعر النابت بمجتمع اللحيين والعارض ما بينهما وبين العذار وهو القدر المحاذي للأذن يتصل من الأعلى بالصدغ ومن الأسفل بالعارض. (البحر الرائق: ۱/۱٦، ط: كوئته).

رخسار کے بالوں کو صاف کرنے اور خط بنوانے کا حکم:
جبڑے کی ہڈی پر جو بال ہوں وہ ڈاڑھی میں شامل ہیں ان کو چھوڑ کر جبڑے کی ہڈی کے اوپر جہاں سے رخسار شروع ہوتا ہے ان کو برابر کر کے خط بنوانا درست ہے، کیوں کہ رخسار کے بال ڈاڑھی میں شامل نہیں ہیں ۔ لیکن علماء فرماتے ہیں کہ اس کا بھی چھوڑ دینا افضل ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

ولا بأس بالأخذ من الحاجبين وشعر وجهه ما لم يشبه فعل المخنث. (رد المحتار: ٦/۳۷۳، وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۸).

علامہ کشمیری رحمه الله فرماتے ہیں:
أما الأشعار التي على الخدين فليست من اللحية لغة، وإن كره الفقهاء أخذها لأنه إن كان بالحديد فذلك يوجب الخشونة في الخدين، وإن كان بالنتف فإنه يضعف البصر. (فيض الباري: ٤/۳۸۰، باب قص الشعر، كتاب اللباس).

حلق کے بالوں کا حکم:
حلق پر جو بال ہوتے ہیں بہتر اور اولی تو یہی ہے کہ اس کو نہ منڈایا جائے، البتہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ اس کی اجازت دیتے ہیں ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ولا يحلق شعر حلقه، وعن أبي يوسف رحمة الله تعالى لا بأس بذلك. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۸). (كذا في الشامية: ٦/۳۷۳، سعيد).

فتاوی محمودیہ میں ہے: عبارتِ بالا سے معلوم ہوا کہ حلق کے بالوں کو نہیں مونڈنا چاہیے، ہاں امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی نے اس کی اجازت دی ہے ۔ کان کے قریب جو ہڈی ہے اس سے اوپر سر کا حصہ ہے اور نیچے ڈاڑھی کا حصہ ہے، لہذا اوپر کا حصہ منڈوانا درست ہے اور نیچے کا درست نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۹
/
٤۲۱
، فاروقیہ) ۔
ریش بچہ کا حکم:
ریش بچہ یعنی ہونٹ کے نیچے ٹھوڑی پر جو بال ہوتے ہیں یہ ڈاڑھی کے حکم میں ہے اور بچہ کے دونوں جانب لب زریں کے بال منڈوانے کو فقہاء نے بدعت لکھا ہے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ونتف الفنيكين بدعة وهما جانبا العنفقة وهي الشعر الشفة السفلي. (فتاوى الشامي: ٦/۳۷۳، سعيد). (وكذا في الهندية: ۵/۳۵۸).

بخاری شریف میں ہے:
وكان ابن عمر رضي الله عنه يحفي شاربه حتى ينظر إلى بياض الجلد ويأخذ هذين يعني بين الشارب واللحية. (رواه البخاري في باب قص الشارب: ۲/۸۷٤، ط: فيصل).

بہشتی زیور میں ہے: رخسار کی طرف جو بال بڑھ جاویں ان کو برابر کر دینا یعنی خط بنوانا درست ہے اسی طرح اگر دونوں ابرو کسی قدر لے لی جاویں اور درست کر دی جاویں یہ بھی درست ہے، حلق کے بال منڈوانا نہ چاہیے، مگر ابو یوسف سے منقول ہے کہ اس میں بھی کچھ مضائقہ نہیں ریش بچہ کے جانبین لب زیریں کے بال منڈوانے کو فقہاء نے بدعت لکھا ہے اس لیے نہ چاہیے، اسی طرح گدی کے بال بنوانے کو بھی فقہاء نے مکروہ لکھا ہے ۔ (بہشتی زیور، ص:
۹٦۷
، بالوں کے متعلق احکام، ط: دار الاشاعت) ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.