مقدارِ اجرت میں جہالت کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #317Urdu
Vol. 5كتاب الإجارةکرایہ داری کے مسائل کا بیان

Question

ایک شخص کو کسی دوسرے نے اپنے یہاں ملازم رکھا اور اس کو کہا کہ آپ کی تنخواہ ۱۵۰۰ رینڈ ہے اور ساتھ میں کھانا پینا رہن سہن وغیرہ بھی لازم ہے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ کھانے کی اقسام اور مقدار وغیرہ سب مجہول ہیں؟

Answer

عرفِ عام میں یہ طریقہ مروج ہے اور ہر خطے اور علاقہ نیز حیثیت کے اعتبار سے کھانا پینا رہن سہن وغیرہ ہوتا ہے پھر اس میں مسامحت چلتی ہے جو مفضی الی المنازعہ بھی نہیں ہے لہذا ایسا عقد جائز اور درست ہے، ہاں ہر ایک کے حقوق کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے ورنہ فردا بروزِ قیامت جواب دہی ہو گی ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:

ووجه الاستحسان أن هذا النوع من الجهالة لا يفضي إلى المنازعة، لأن مبني الطعام على المسامحة في العرف والعادة دون المضايقة، بخلاف ما إذا شرط كل واحد منهما على نفسه كسوة العبد الذي يخدمه أنه لا يجوز، لأنه يجري في الكسوة المضايقة مالا يجري في الطعام في العرف والعادة، فكانت الجهالة في الكسوة مفضية إلى المنازعة مع ما أن الجهالة في الكسوة تتفاحش بخلاف الطعام، لذلك افترقا. (بدائع الصنائع: أنواع المهايئات وما يجوز منها ومالا يجوز، ۷/۳۱، كتاب القسمة، سعيد).

فتاوی غیاثیہ میں ہے:

استأجر حماراً ليحمل عليه الحنطة ولم يعين مقدارها ولا أشار إليها قال الشيخ أبو بكر المعروف بـ "خواهرزاده": فسدت، وذكر شمس الأئمة الحلواني رحمه الله أنه يجوز فينصرف إلى المعتاد وهذا أظهر وأشبه وعليه الفتوى. (الفتاوى الغياثية، كتاب الإجارات، ص ۱۵۸).

شمس الائمہ حلوانی رحمه الله کی عبارت سے معلوم ہوا کہ عقدِ اجارہ میں عرفاً قابل تحمل جہالت مفسدِ عقد نہیں ہے ۔
اعلاء السنن میں ہے:

قلت: والحاصل أن الجهالة اليسيرة عفو في ما جرى به التعامل، لكونها لا تفضي إلى النزاع عادة. (إعلاء السنن: ۱٦/۲۰۹، باب أجرة السمسرة، إدارة القرآن).

تکملہ فتح الملہم میں ہے:

قال العبد الضعيف عفا الله عنه: ويخرج على هذا كثير من المسائل في عصرنا، فقد جرت العادة في بعض الفنادق الكبيرة أنهم يضعون أنواعاً من الأطعمة في قدور كبيرة، ويخيرون المشتري في أكل ما شاء بقدر ما شاء، ويأخذون ثمناً واحداً معيناً من كل أحد فالقياس أن لا يجوز البيع لجهالة الأطعمة المبيعة وقدرها، ولكنه يجوز لأن الجهالة يسيرة غير مفضية إلى النزاع، وقد جرى بها العرف والتعامل، وكذلك استئجار السيارات، ربما لا يعرف سائقها مسافة السفر ولا تتعين الأجرة في بداية السفر، ولكن هذه الجهالة تتحمل، لكون العداد رافعاً للنزاع، ويتفق الراكب والسائق على أجرة يدل عليها العداد، فلا يقع النزاع. (تكملة فتح الملهم: ۱/۳۲۰، باب بيع الحصاة والبيع الذي فيه غرر).

کفایت المفتی میں ہے:
سوال: عام طور سے یہ رواج ہے کہ کچھ روپیہ اور کھانے پر آدمی کو گھر میں ملازم رکھ لیتے ہیں اور کھانے کی مقدار و کیفیت آدمی کو ملازم رکھتے وقت بیان نہیں کرتے تو اس طرح کی ملازمت جائز ہے یا نہیں؟
جواب: یہ ملازمت جائز ہے، کھانے کی مقدار بس اتنی معلوم ہونا کافی ہے کہ پیٹ بھر کھانا ملے گا ۔ (کفایت المفتی: ۷/۳۱۰، کتاب المعاش، دار الاشاعت) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (امداد المفتین، جلدِ دوم، ص ۷۱٦، کتاب الاجارات، دار الاشاعت ۔ و مالی معاملات پر غرر کے اثرات، ص ۸۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.