فیشن ماڈل کی اجرت کا حکم:

2 min readFatwa Vol 5 #342Urdu
Vol. 5كتاب الإجارةکرایہ داری کے مسائل کا بیان

Question

فیشن ماڈل کی اجرت کا کیا حکم ہے؟ یعنی جب نئے فیشن کے کپڑے برآمد ہوتے ہیں، تو نمائش کے لیے حسین و جمیل عورتیں اجرت پر لی جاتی ہیں، جو نمائش گاہ میں اپنے برہنہ جسم کے ساتھ ان کپڑوں کی نمائش کرتی ہے، پھر اس کے اشتہارات چھپتے ہیں اور اس کی اجرت لی جاتی ہے، کیا یہ اجرت لینا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

فیشن ماڈل کی اجرت ناجائز ہے، کیوں کہ اعضائے جسم کے اظہار کو ذریعہ معاش بنایا گیا اور شریعتِ مقدسہ کا قانون یہ ہے کہ عورتیں از سر تا پا مستور ہوں، غیر محرموں کے سامنے جسم کی ساخت کا اظہار کرنا اور برہنہ ہونا حرام اور ناجائز ہے۔ ایسی عورتوں کو اللہ تعالی کے غضب سے ڈرنا چاہیے اور ایسے عمل سے توبہ کرنی چاہیے۔
قرآن کریم میں ہے:

﴿يا أيها النبي قل لا زواجك وبناتك ونساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهن﴾. (سورة الاحزاب، الآية: ۵۹).
وقال تعالى: ﴿ولا يبدين زينتهن إلا ما ظهر منها وليضربن بخمرهن على جيوبهن﴾. (سورة النور، الآية: ۳۱).
وقال تعالى: ﴿وقرن في بيوتكن﴾ (سورة الاحزاب، الآية: ۳۳).
وقال: ﴿قل للمؤمنين يغضوا من أبصارهم

وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن﴾. (سورة النور، ۳۰، ۳۱).

ترمذی شریف میں ہے:

عن عبد الله رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: المرأة عورة فإذا خرجت استشرفها الشيطان. (رواه الترمذي: ۱/۲۲۰، أبواب الرضاع).

صحیح مسلم شریف میں ہے:

عن رافع بن خديج رضي الله عنه عن رسول الله ﷺ قال: ثمن الكلب خبيث ومهر البغي خبيث وكسب الحجام خبيث. (رواه مسلم: ۲/۱۹، باب تحريم ثمن الكلب).

فتاوی بزازیہ میں ہے:

وفي العيون لا تجب أجرة المغنية وفي المنتقي امرأة نائحة أو صاحبة طبل أو صاحبة مزامير اكتسبت مالاً إن كانت على شرط ردته على أربابها إن علموا وإن لم يعلموا تصدقت به وإن من غير شرط فهو لها قال الإمام الأستاذ رحمه الله: لا يطيب والمعروف كالمشروط. (الفتاوى البزازية بهامش الهندية: ۵/۱۲۵، العاشر في الحظر والإباحة).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.