سامان میں شرکت کا حکم:

2 min readFatwa Vol 5 #411Urdu
Vol. 5كتاب المضاربةشرکت سے متعلق احکام کا بیان

Question

اگر شریکین نقد کی بجائے سامان میں شرکت کر لیں، مثلاً زید کے پاس کپڑے ہیں اور عمر کے پاس کتابیں ہیں، اور آپس میں نصف ربح کی شرط پر شرکت منعقد کر لیں تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

Answer

فقہاء فرماتے ہیں کہ شرکتِ مفاوضہ اور شرکتِ عنان کے لیے شریکین جو مال جمع کریں گے وہ نقد کے قبیل سے ہو گا، مثلاً سونا چاندی، یا فلوس رائجہ وغیرہ میں سے کسی کا ہونا ضروری ہے، سامان میں شرکت صحیح اور درست نہیں ہو گی ۔
شرحِ مجلہ میں ہے:

كون رأس المال من قبيل النقود شرط لصحة شركة الأموال سواء كانت مفاوضة أو عناناً فلا تجوز بالعروض والمكيل والموزون عندنا، لأنه يودي إلى ربح مالم يضمن لأنه إذا باع كل واحد منهما رأس ماله وتفاضل الثمنان، فما يستحقه أحدهما من الزيادة في مال صاحبه ربح مالم يملك ومالم يضمن. (شرح المجلة، للأتاسي، ٤/۲٦۱، المادة: ۱۳۳۸).

لیکن حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمه الله نے امداد الاحکام میں شرکت فی العروض کے جواز کا فتوی دیا ہے، پس ابتلائے عام کی وجہ سے اس مسئلہ میں دیگر ائمہ کے قول پر فتوی دے کر شرکت مذکورہ اور شرکت فی العروض کے جواز کا فتوی دیا جاتا ہے ۔ (امداد الاحکام: ۳/٤٤۵).
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله نے "امداد الفتاوی" میں ذکر فرمایا ہے کہ عروض میں شرکت کے بارے میں اگر چہ فقہاء کرام کا اختلاف ہے، لیکن موجودہ زمانے کی ضروریات اور ابتلائے عام کی وجہ سے امام مالک رحمه الله کے مذہب پر فتوی دیا جا سکتا ہے، کیوں کہ اس سے عصر جدید کی مشکلات اور پریشانیوں کے حل کرنے میں زیادہ مدد مل سکتی ہے ۔ (شرکت اور مضاربت عصر حاضر میں، ص۲۵٤، ادارۃ المعارف کراچی) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (امداد الفتاوی: ۳/٤۹۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.