تاوان ادا کرنے کے بعد شیٔ مغصوب کا حکم:

3 min readFatwa Vol 6 #10Urdu
Vol. 6غصب کے احکام کا بیان

Question

میرے پاس بلڈ پریشر چیک کرنے کی ایک مشین تھی جو بہت عمدہ مشینوں میں شمار کی جاتی تھی، ایک صاحب نے میری غیر موجودگی میں وہ مشین میری اجازت کے بغیر ہمارے گھر سے اٹھا لی، بعد میں بتلایا، کچھ دنوں کے بعد میں نے مشین واپس کرنے کے لیے کہا اس نے کہا ٹھیک ہے، لیکن تلاش کرنے کے بعد کہا کہ وہ مشین گم ہو گئی، اور تاوان ادا کر دیا، کچھ مدت کے بعد اس نے یہ نوید سنائی کہ آپ کی مشین مل گئی ۔ اب میں اپنی مشین واپس لے سکتا ہوں یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ اگر تاوان مالک کی مرضی کے مطابق ادا کیا گیا تو مالک زبردستی مشین واپس نہیں لے سکتا، اور اگر مالک کی مرضی کے مطابق تاوان نہیں ملا بلکہ غاصب کی مرضی کے مطابق ملا تو مالک مشین واپس لے کر تاوان کی رقم واپس کر سکتا ہے ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

فإن ظهرت العين وقيمتها أكثر مما ضمن وقد ضمها بقول المالك وببينة أقامها أو بنكول الغاصب عن اليمين فلا خيار للمالك وهو للغاصب لأنه تم له الملك بسبب اتصل به رضاء المالك حيث ادعي هذا المقدار. فإن كان ضمنه بقول الغاصب مع يمينه فهو بالخيار إن شاء أمضى الضمان وإن شاء أخذ العين ورد العوض لأنه لم يتم رضاه بهذا المقدار حيث يدعي الزيادة وأخذه دونها لعدم الحجة. (الهداية: ۳/۳۸۱، كتاب الغصب).
(وكذا في البحر الرائق: ۸/۱۲۰، كوئته. وتبيين الحقائق: ۵/۲۳۱، إمدادية، ملتان).

فتاوی قاضی خان میں ہے:

فإذا قضي القاضي ثم ظهرت الجارية فإن كان القضاء بالقيمة بالبينة أو بنكول الغاصب أو بإقرار الغاصب بما ادعي المالك من قيمة الجارية كانت الجارية للغاصب لا سبيل للمغصوب منه عليها وإن كان القضاء بالقيمة بزعم الغاصب بعد ما حلف الغاصب يخير المغصوب منه إن شاء استرد الجارية ورد ما قبض على الغاصب وإن شاء أمسك تلك القيمة ولا سبيل عليها. (الفتاوى الخانية على هامش الهندية: ۳/۲٤۸).
(وكذا في الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۲۰۳، سعيد، والفتاوى الهندية: ۵/۱۳۷، الباب السابع في الدعوي الواقعة في الغصب واختلاف الغاصب والمغصوب منه والشهادة في ذلك).

یعنی اگر غاصب نے مالک کے بینہ یا غاصب کی قسم سے گریز یا غاصب کے اقرار کے نتیجہ میں قیمت ادا کی ہو اور غاصب کا اقرار مالک کی بتلائی ہوئی قیمت کے موافق تھا تو مالک مغصوب کو واپس نہیں لے سکتا، اور اگر غاصب نے قسم کھا کر قسم کے نتیجے میں قیمت ادا کی ہو تو مالک مغصوب کو واپس لے سکتا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.