غصب کردہ اموال کے منافع کا حکم:
Question
ایک شخص نے کسی کا مال چوری کیا یا غصب کیا اور اس مال سے تجارت کر کے اس کو خوب بڑھایا، اب تبلیغی جماعت کی برکت سے اللہ تعالی نے اس کو توبہ کی توفیق دی اب یہ تمام کمایا ہوا مال مالک کا ہے یا صرف چوری شدہ اور غصب شدہ مال واپس کیا جائے گا پھر باقی مال تائب کے لیے جائز ہوگا یا نہیں؟
Answer
مذکورہ صورت میں چوری شدہ اور غصب شدہ مال واپس کیا جائے گا اور اس مال سے جو کمایا ہوا مال ہے اس کی درجِ ذیل چند صورتیں ہو سکتی ہے: ۔
(۱) غصب شدہ مال کو متعین کر کے اس کے بدلے میں حلال مال خریدا اور پھر وہ غصب شدہ یا چوری شدہ مال قیمت میں ادا کیا ۔
(۲) غصب شدہ مال کو متعین کیے بغیر حلال چیز خریدی پھر غصب شدہ مال کو قیمت میں ادا کیا ۔
(۳) مال حلال کو متعین کیا اور غصب شدہ مال ادا کیا ۔
(٤) غصب شدہ متعین کیا اور حلال مال ادا کیا ۔
پہلی صورت میں حاصل شدہ آمدنی ناجائز اور واجب التصدق ہو گی باقی صورتوں میں امام ابو الحسن الکرخی رحمہ اللہ کے نزدیک حاصل شدہ اموال کے استعمال کی گنجائش ہے لہذا تائب کے لیے باقی مال استعمال کرنا جائز ہوگا ۔
ملاحظہ ہو مختصر القدوری میں ہے:
ومن غصب شيئاً مما له مثل فهلك في يده فعليه ضمان مثله وإن كان مما لا مثل له فعليه قيمته يوم الغصب. (مختصر القدوري، ص ۲۹۵، مؤسسة الريان).
رد المحتار میں ہے:
لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه. (رد المحتار: ٦/۳۸۵، سعيد).
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
اشترى بدراهم مغصوبة، أو بدراهم اكتسبها من الحرام شيئاً، فهذا على وجوه: (۱) إما أن دفع إلى البائع تلك الدراهم أو لا، ثم اشترى منه بتلك الدراهم، (۲) إذا اشترى قبل الدفع بتلك الدراهم، ودفعها، (۳) أو اشترى قبل الدفع بتلك الدراهم، ودفع غير تلك الدراهم، (٤) أو اشترى مطلقاً، ودفع تلك الدراهم، (۵) أو اشترى بدراهم آخر، ودفع تلك الدراهم، ففي الوجوه كلها لا طيب له التناول قبل ضمان يعني قبل ضمان الدراهم، وبعد الضمان يطيب له الربح، هكذا ذكره في الجامع الصغير قال أبو الحسن الكرخي رحمه الله: هذا الجواب صحيح في الوجه الأول والثاني، أما في الوجه الثالث والرابع والخامس يطيب له، واليوم قالوا: الفتوى على قول أبي الحسن الكرخي رحمه الله، لكثرة الحرام دفعاً للحرج على الناس، وعلى هذا تقرر رأي الصدر الشهيد رحمه الله. (الفتاوى التاتارخانية: ۱٦/۵۱۰، ط: ديوبند).
وللمزيد راجع: (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/۲۳۵، سعيد، والدر المختار: ٦/۱۸۹، سعيد، وحاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۱۰۵، كوئته).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
جس قدر مال بطریق حرام کمایا اس کی واپسی لازم ہے لیکن اس مال کے ذریعہ دوسرا حلال مال کمایا گیا اس کو حرام نہ کہا جائے گا ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۸/٤۰۸، فاروقیہ، و۱۸/٤۱۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.