عورت کی ناک، کا ن کے سوراخ میں پانی پہنچانے کا حکم:
Question
اگر کسی عورت کی ناک، کا ن میں سوراخ ہو تو وضو میں پانی پہنچانا ضروری ہے یا نہیں؟
Answer
جو عورت ایسی چیزیں پہنے جس کی وجہ سے اس کے کا ن اور ناک وغیرہ میں سوراخ ہو تو اس کو خو ب ہلا لے تا کہ پانی اس کے سوراخ میں پہنچ جائے وضو اور غسل کے وقت ایسا نہ ہو کہ پانی نہ پہنچے اور غسل اور وضو صحیح نہ ہو، البتہ اگر انگوٹھی، چھلے ڈھیلے ہو ں کہ بغیر ہلائے بھی پانی پہنچ جائے تو ہلانا واجب نہیں ہے لیکن ہلا لینا اب بھی بہتر ہے ۔ (بہشتی زیور ص
۷۷
) ۔
شرح منیۃ المصلی میں ہے:
امرأة اغتسلت هل تتكلف في إيصال الماء إلى ثقب القرط أم لا (القرط) ما يعلق في شحمة الأذن (قال) محمد في الأصل وهذا دأب صاحب المحيط بذكر لفظ قال ومراده ذلك تتكلف فيه أي في إيصال الماء إلى ثقب القرط كما تتكلف في تحريك الخاتم إن كان ضيقاً والمعتبر فيه غلبة الظن بالوصول إن غلب على ظنها أن الماء لا يدخله إلا بتكلف تتكلف وإن غلب أنه وصله لا تتكلف سواء كان القرط فيه أم لا وإن انضم الثقب بعد نزع القرط وصار بحال إن أمر عليه الماء يدخله وإن غفل لا فلا بد من إمراره ولا تتكلف لغير الإمرار من إدخال عود ونحوه فإن الحرج مدفوع وإنما وضع المسألة في المرأة باعتبار الغالب وإلا فلا فرق بينها وبين الرجل. (شرح منية المصلي، ص: ٤۸).
درج کردہ عبارت سے معلوم ہو گیا کہ جب کا ن کی لو میں سوراخ ہو اور زیور ہو تو اس میں غسل کے اندر پانی پہنچانا ضروری ہے اور اگر غالبِ ظن ہو کہ وہ بند ہو چکا ہو تو اس کے کھولنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ناک کے سوراخ میں وضو اور غسل دونوں میں پانی پہنچانا ضروری ہے، اگر ناک کا سوراخ بھی بند ہو چکا ہو تو اس کو زبردستی کھولنے کی ضرورت نہیں ۔ یاد رہے کہ کا ن کے سوراخ میں پانی پہنچانا غسل میں ضروری ہے لیکن وضو میں تو کان کا دھونا ہی نہیں ہے ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.