دو سال سے کم عمر گائے کی قربانی کا حکم:

3 min readFatwa Vol 6 #126Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۳): أحكام الأضحية

Question

اگر گائے کی قربانی کی جائے تو دو سال مکمل ہونا ضروری ہے لیکن اگر دو سال سے کم عمر گائے موٹی تازی ہے جو دو سالہ کے برابر معلوم ہوتی ہے تو اس کی قربانی درست ہے یا نہیں؟

Answer

شرعاً دو سال سے کم عمر گائے کی درست نہیں، ہاں دنبے میں یہ تخفیف ہے کہ چھ ماہ کا دنبہ سال کے برابر معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی درست ہے ۔
ملاحظہ ہو مسلم شریف میں روایت ہے:

عن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "لا تذبحوا إلا مسنة إلا أن يعسر عليكم فتذبحوا جذعة من الضأن. (رواه مسلم: ۲/۱۵۵).
وقال في معجم لغة الفقهاء: المسن: من البقر ما جاوز السنتين.

(cow more than two years old) ۔ (
معجم لغة الفقهاء، ص ٤۲۹).
وفي شرح مسلم للإمام النووي رحمه الله: قال العلماء: المسنة هي الثنية من كل شيء من البقر والغنم فما فوقها وهذا تصريح بأنه لا يجوز الجذع من غير الضأن في حال من الأحوال وهذا مجمع عليه. (الشرح الكامل: ۲/۱۵۵). (وكذا في بذل المجهود: ۹/۵٤۲، دار البشائر الإسلامية).
وفي تكملة فتح الملهم: أجمع الفقهاء على أن الجذع إنما يجزئ من الضأن ولا يجزئ في المعز ولا في البقر والإبل وإنما تجب فيها الثني. (تكملة فتح الملهم: ۳/۵۵۷).
إعلاء السنن
میں ہے:

اختلفوا في تقدير الجذع والثني على أقوال، والمعتمد عندنا ــ معشر الحنفية ــ أن الجذع من الضأن ابن ستة أشهر، والثني منها ومن المعز ما تم له سنة ودخل في الثانية، ومن البقر ما تم له سنتان ودخل في الثالثة، ومن الإبل ما تم له خمس سنين ودخل في السادسة. (اعلاء السنن: ۱۷/۲٤۲، باب ما يجوز في الضحايا من السن، إدارة القرآن).
وللاستزادة انظر: (بدائع الصنائع: ۵/۷۰، سعيد).

حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ فرماتے ہیںـ
و شرط است کہ گاؤ و جاموس کم از دو سال نباشدوشترکم ازپنج سال نباشد ۔ (ما لا بد منہ، ص ۱٦٤) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
قربانی کے جانور کا "
مسنة"
ہونا ضروری ہے یعنی اونٹ پانچ برس کا، گائے وغیرہ دو برس کی، اور بھیڑ، بکری وغیرہ ایک برس کی ہونا ضروری ہے ۔ اس سے کم عمر والے جانور کی قربانی درست نہیں ہے کہ اس سے کم سن والے جانور
"مسنة"
نہیں ۔ البتہ دنبہ چھ ماہ کا اس قدر فربہ ہو کہ سال کا دنبہ معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی درست ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۵/۳۸۷) ۔ مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ: ۱۷/۳۷٤، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.