قربانی کے جانور کے دانت کا حکم:
Question
گائے کی قربانی کرنی ہو تو دو دانت والی کافی ہے یا نہیں؟ کتنے دانت کا ہونا ضروری ہے؟
Answer
قربانی کے جانور کی عمریں متعین ہیں، گائے مکمل دو سالہ ہونا ضروری ہے، اور دانت کا اعتبار نہیں ۔ جب کہ اچھی طرح اپنا گھاس چارہ کھا سکتی ہو، ہاں اگر گھاس چارہ اچھی طرح نہیں کھا سکتی تو پھر اس کی قربانی جائز نہیں ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
قال ويجزي من ذلك كله الثني فصاعداً إلا الضأن، والثني منها ومن المعز ابن سنة ومن البقر ابن سنتين ومن الإبل ابن خمس سنين ويدخل في البقر الجاموس لأنه من جنسه. (الهداية: ٤/٤٤۹، وكذا في الدر المختار: ٦/۳۲۲، سعيد).
بدائع الصنائع
میں ہے:
وتخصيص هذه القربة بسن دون سن أمر لا يعرف إلا بالتوقيف فيتبع ذلك
وتقدير هذه الأسنان بما قلنا لمنع النقصان لا لمنع الزيادة حتى لوضحي بأقل من ذلك سناً لا يجوز. (بدائع الصنائع: ۵/۷۰، سعيد).
وفيه أيضاً: وأما الهتماء وهي التي لا أسنان لها فإن كانت ترعي وتعتلف جازت وإلا فلا وذكر في المنتقي عن أبي حنيفة أنه أن كان لا يمنعها عن الاعتلاف تجزيه وإن كان يمنعها عن الاعتلاف إلا أن يصب في جوفها صباً لم تجزه. (بدائع الصنائع: ۵/۷۵، سعيد).
وفي الموسوعة الفقهية الكويتية: حكم التضحية بالهتماء
ذهب الحنفية في الصحيح إلى أن الهتماء إن كانت ترعي وتعلف جازت التضحية بها. (الموسوعة الفقهية الكويتية: ٤۲/۱۵٦).
وللاستزادة انظر: (اعلاء السنن: ۱۷/۲۵۲. ۲۵۳، باب جواز التضحية بالثولاء والهتماء والثرماء، والفتاوى الهندية: ۵/۲۹۸، والفتاوى السراجية، ص، وتكملة فتح القدير:، والعناية:، والجوهرة النيرة، باب الهدي).
کفایت المفتی میں ہے:
قربانی کے لیے جانوروں کی عمریں متعین ہیں بکری بکرا ایک سال کا ہو اور گائے دو سال کی، چونکہ اکثری حالات میں جانوروں کی صحیح عمر معلوم نہیں ہوتی اس لیے ان کے دانتوں کو عمر معلوم کرنے کا اور اس پر عمل کرنے کا احتیاطاً حکم دیا گیا ہے ۔ (کفایت المفتی: ۸/۲۳۷) ۔
فتاوی بینات میں ہے:
دانت نکلنا ضروری نہیں، بلکہ مدت پوری ہونا شرط ہے ۔ (فتاوی بینات: ٤/۵۷۱) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
دانت میں اصل معیار یہ ہے کہ جانور گھاس کھا سکتا ہو تو قربانی جائز ہے ورنہ نہیں کیوں کہ دانتوں سے مقصود یہی ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۷/۵۱٤) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ: ۱۷/۳٦٤ ۔ ۳٦۸، و ۳۷٤، جامعہ فاروقیہ، و فتاوی رحیمیہ: ۵/۳۸۸، و امداد الفتاوی: 3/٦۱۲) ۔
تنبیہ: واضح ہو کہ اکثر کتبِ فقہ و فتاوی میں یہ قید مذکور ہے کہ اکثر دانت باقی ہوں تو قربانی جائز ہے ورنہ نہیں، یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول ہے، یہ مذہب نہیں ہے ۔ اصل مذہب یہ ہے کہ دانت کا اعتبار نہیں ہے، اصل مدار گھاس، چارہ کھانے پر ہے، جو کہ مذکور ہوا، یہی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے منقول ہے، اور اعلاء السنن میں تحقیق فرمائی ہے کہ یہی ظاہر الروایہ ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.