ہرن کی قربانی کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 6 #124Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۳): أحكام الأضحية

Question

ایک شخص ہرن کی قربانی اور عقیقہ کرنا چاہتا ہے، کیا ہرن کی قربانی یا اس کا عقیقہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer

قربانی اور عقیقہ کے جانور متعین ہیں ان کے علاوہ کسی دوسرے جنگلی جانور کی قربانی و عقیقہ درست نہیں ۔ قربانی کے جانور درجِ ذیل ہیں:
اونٹ، اونٹنی ۔ گائے، بیل ۔ بھینس، بھینسا ۔ بکرا، بکری ۔ بھیڑ، دنبہ ۔ صرف انہیں جانوروں کی قربانی درست ہے، پس ہرن کی قربانی و عقیقہ درست نہیں ۔ اور اگر کوئی جانور مخلوط النسل ہو تو ماں کا اعتبار ہوگا اگر ماں پالتو ہے، مثلاً بکری، گائے وغیرہ تو قربانی جائز ہے ورنہ نہیں ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:

وأما محل إقامة الواجب

أما جنسه فهو أن يكون من الأجناس الثلاثة: الغنم أو الإبل أو البقر ويدخل في كل جنس نوعه والذكر والأنثى منه والخصي والفحل لانطلاق اسم الجنس على ذلك والمعز نوع من الغنم والجاموس نوع من البقر بدليل أنه يضم ذلك إلى الغنم والبقر في باب الزكاة ولا يجوز في الأضاحي شيء من الوحش لأن وجوبها عرف بالشرع والشرع لم يرد بالإيجاب إلا في المستأنس فإن كان متولداً من الوحشي والأنسي فالعبرة بالأم فإن كانت أهلية يجوز وإلا فلا، حتى أن البقرة الأهلية إذا نزا عليها ثور وحشي فولدت ولداً فإنه يجوز أن يضحي به. (بدائع الصنائع: ۵/٦۹، سعيد). (وكذا في الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۳۲۲، سعيد).
وفي الفتاوى السراجية: ولا يجوز بالظبي، والوعل، الخيل، والحمار الوحش. (الفتاوى السراجية، ص ۳۸۵، والمبسوط للامام السرخسي ۱۲/۲۹ ط: بيروت).

فتاوی بینات میں ہے:
قربانی کے جانور دو قسم کے ہیں: ۔ چھوٹے مثلاً بکرا، بکری، بھیڑ، دنبہ اور بڑے مثلاً گائے، بیل، بھینس، بھینسا، اونٹ، اونٹنی ۔ انہیں جانوروں کی قربانی درست ہے ۔ اس کے علاوہ اور کسی جانور کی قربانی درست نہیں ۔ (فتاوی بینات، جلدِ چہارم، ص ۵۷۰، بحوالہ الفتاوی الہندیۃ: ۵/۲۹۹) ۔ مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی رحیمیہ: ۵/۳۸۸، بعنوان ہرن کی قربانی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.