تھن کٹے جانور کی قربانی کا حکم:

2 min readFatwa Vol 6 #134Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۳): أحكام الأضحية

Question

اگر جانور کے تھنوں میں سے ایک یا دو خراب ہوں تو قربانی ہو سکتی ہے یا نہیں؟

Answer

اگر چار تھن والا جانور ہے، مثلاً گائے، بھینس، اونٹنی اور اس کا ایک تھن خراب ہے تو قربانی جائز ہے، لیکن اگر دو تھن خراب ہوں تو قربانی جائز نہیں ہے، اور اگر دو تھن والا جانور ہے، مثلاً بکری، بھیڑ وغیرہ اور اس کا ایک تھن خراب ہے تو قربانی جائز نہیں ہے ۔ یا ایک تھن ایک ثلث سے زیادہ خراب ہے تب بھی جائز نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

وفي الخلاصة: مقطوعة رؤوس ضروعها لا تجوز، فإن ذهب من واحدة أقل من النصف فعلي ما ذكرنا من الخلاف في العين والأذن. وفي الشاة والمعز إذا لم يكن لهما إحدى حلمتيها خلقة أو ذهبت بآفة وبقيت واحدة لم يجز، وفي الإبل والبقر إن ذهبت واحدة يجوز أو اثنتان لا، وذكر فيها جواز التي لا ينزل لها لبن من غير علة، وفي التاتارخانية والشطور لا تجزي، وهي من الشاة ما قطع اللبن عن إحدى ضرعيها، ومن الإبل والبقر ما قطع من ضرعيها لأن لكل واحد منهما أربع أضرع. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۳۲۵، سعيد).
(وهكذا في الفتاوى الهندية: ۵/۲۹۸، ولسان الحكام، ص ۳۸۸، وخلاصة الفتاوى: ٤/۳۲۱).
وفي الفتاوى الهندية: ومن المشايخ من يذكر لهذا الفصل أصلاً ويقول: كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع. (الفتاوى الهندية: ۵/۲۹۹، وكذا في المحيط البرهاني: ٦/٤۷۹، الفصل الخامس من كتاب الأضحية).

احسن الفتاوی میں ہے:
گائے کے دو تھن اور بکری کا ایک تھن خراب ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ۔ (احسن الفتاوی: ۷/٤۸۷) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
اونٹنی، گائے، بھینس کے اندر ایک تھن خشک ہو جانے پر قربانی جائز ہوتی ہے ۔ لیکن دو تھن خشک ہو جائیں یا کٹ جائیں تو قربانی جائز نہیں ۔ (کفایت المفتی: ۸/۲۰٤، دار الاشاعت) ۔
فتاوی بینات میں ہے:
جس جانور کا تھن نہیں ہے، یا ہے لیکن خشک ہو چکا ہے تو اس کی قربانی درست نہیں ۔ (فتاوی بینات: ٤/۵۷۲، مکتبہ بینات) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.