عقیقہ میں بچہ کے بال مونڈنے کی حکمت:
Question
عقیقہ میں بچہ کے بالوں کے مونڈنے کی کیا حکمت و مصلحت ہے؟
Answer
عقیقہ میں بچہ کے بالوں کے مونڈنے کی درجِ ذیل حکمتیں و مصلحتیں ہیں:
(۱) حدیث شریف میں آتا ہے کہ بچہ کا عقیقہ کرو اور گندگی دور کرو، اکثر حضرات نے اس گندگی سے بال مراد لیے ہیں، یعنی اس کے بال مونڈے جائیں تاکہ گندگی دور ہو جائے ۔ اور گندگی اس لیے کہا کہ بال رحم کے خون کے ساتھ ملوث ہوتے ہیں، بقیہ بدن دھونے سے صاف ہو جاتا ہے مگر بالوں میں گندگی کے اثرات رہ جاتے ہیں اس لیے مونڈنے کا حکم دیا گیا ۔
(۲) پرانے بال مونڈنے کے بعد نئے مضبوط بال آئیں گے، اس میں سرکے لیے بڑا فائدہ ہے ۔
(۳) سر صاف ہو جانے پر سرکے مسامات کھل جاتے ہیں، اور گرمی آسانی سے باہر نکل جاتی ہے ۔
(٤) حواسِ جسم کی مضبوطی کا ذریعہ ہے ۔
(۵) عقیقہ کے عمل میں بچہ ملتِ ابراہیمی کا تابع سمجھا جاتا ہے جیسے عیسائی لوگ زرد رنگ میں رنگتے تھے ۔
(٦) بال کے برابر چاندی صدقہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے لہذا اس میں فقراء کا بڑا فائدہ ہے ۔
(۷) سرکے بال مونڈنے میں حجاج کے ساتھ مشابہت بھی ہے ۔
یہ چند حکمتیں علماء نے بیان فرمائی ہے، ورنہ احکامِ شریعت کی بے شمار حکمتیں ہیں جو اللہ تعالی ہی کو معلوم ہے، بندہ کے فہمِ قاصر کی رسائی ان تک نہیں ہو سکتی ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
أخرج البخاري تعليقاً عن سلمان بن عامر الضبي قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: مع الغلام عقيقة، فأهريقوا عنه دماً وأميطوا عنه الأذى. (بخاري شريف: ۵٤۷۱، باب إماطة الأذى عن الصبي في العقيقة).
قال العلامة العيني في عمدة القاري: "أميطوا" أي أزيلوا.
"الأذى" قيل: هو إما الشعر أو الدم أو الختان، وقال الخطابي: قال محمد بن سيرين: لما سمعنا هذا الحديث طلبنا من يعرف معني إماطة الأذى فلم نجد، وقيل: المراد بالأذى هو شعره الذي علق به دم الرحم فيماط عنه بالحلق، وقيل: إنهم كانوا يلطمون رأس الصبي بدم العقيقة، وهو أذى فنهى عن ذلك وقد جزم الأصمعي بأنه حلق الرأس، وأخرجه أبو داود عن الحسن كذلك، والأوجه أن يحمل الأذى على المعنى الأعم، ويؤيد ذلك أن في بعض طرق حديث عمرو بن شعيب "ويماط عنه أقذاره" رواه أبو الشيخ. (عمدة القاري: ۱٤/ ٤٦۸، إمدادية، ملتان، وفتح الباري: ۹/۵۹۳). (وكذا في الاستذكار لابن عبد البر: ۵/۳۱٤، باب ما جاء في العقيقة).
وفي فيض القدير: أميطوا عنه الأذى، أي شعر رأسه، وما عليه من قذر طاهر أو نجس ليخلف الشعر شعر أقوي منه، ولأنه أنفع للرأس مع ما فيه من فتح مسام الراس ليخرج البخار بسهولة، وفيه تقويه حواسه. (فيض القدير: ٤/۵٤۷).
حجۃ اللہ البالغہ میں ہے:
فمن تلك المصالح
ومنها: أن النصارى كان إذا ولد لهم ولد صبغوه بماء أصفر يسمونه المعمودية، وكانوا يقولون: يصير الولد به نصرانياً، وفي مشاكلة هذا الاسم نزل قوله تعالي: ﴿صبغة الله ومن أحسن من الله صبغة﴾ فاستحب أن يكون للحنيفين فعل بازاء فعلهم ذلك يشعر بكون الولد حنيفياً تابعاً لملة إبراهيم وإسماعيل
ومنها:
وأما إماطة الأذى فللتشبه بالحاج، وقد ذكرنا. (حجة الله البالغة: ۲/۲۵۳، العقيقة، ط: قديمي).
مزید ملاحظہ ہو: (حجۃ اللہ البالغۃ: ۲/۲۵۲ ۔ ۲۵۳، العقیقۃ، ط: قدیمی، و احکامِ اسلام عقل کی نظر میں " از حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ، ص ۱۵٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.