کھانا کھانے کے بعد کی دعا:

4 min readFatwa Vol 6 #205Urdu
Vol. 6كتاب الحظر والإباحةباب (۱): أحكام الأكل والشرب

Question

کھانا کھانے کے بعد جو دعا پڑھی جاتی ہے: "
الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين"
اس میں تین باتیں دریافت کرنی ہیں: (۱) پہلی یہ کہ اس دعا میں
"من المسلمين"
ہے یا "
مسلمين"
ہے ۔
(۲) دوسری یہ کہ یہ روایت صحیح ہے یا ضعیف ۔
(۳) تیسری یہ کہ کھانے پینے کی دعا سے اسلام کا کیا جوڑ ہے؟

Answer

(۱) یہ دعا متعدد کتبِ حدیث میں مذکور ہے۔
مثلاً: (
سنن الترمذي: ۲/۱۸٤، وسنن أبي داود:، ص۵۳۸، وسنن ابن ماجه، ص ۲۳٦، وعمل اليوم والليلة للنسائي، ص ۱۰٤، وعمل اليوم والليلة لابن السني، ص ۱۲۵، و، باب ما يقول اذا اكل ط: دائرة المعارف، ومسند أحمد۱۷/۳۷۵، و۱۸/٤۲۰، بتحقيق الشيخ شعيب الارنؤوط، ط مؤسسة الرسالة، وشعب الأيمان للبيهقي: ۵/۱۲۲، فصل في ما يقول اذا فرغ من الطعام، ط: دار الكتب العلمية، والأذكار للنووي، ص۲۱۲، ما يقول اذا فرغ من الطعام، ط: مكتبة القدس، والزوائد للامام البوصيري: ۵/۳٤۳/٤۹۲۵، باب ما يقال بعد الطعام والشراب، وأخلاق النبي لابي الشيخ الأصبهاني، رقم ٦٤۳، والدعاء لمحمد بن فضيل الضبي، رقم: ۱۱۳، والدعاء للامام الطبراني، رقم ۸۹۸، والدعوات الكبير للامام البيهقي، رقم: ٤۵٤).

مذکورہ بالا کتبِ حدیث میں سے کسی میں بھی
"من المسلمين"
ہم نے نہیں دیکھا تمام طرق میں "
مسلمين"
ہے ۔
البتہ "
كنز العمال"
(
۷/۱۰٤/۱۸۱۷۹، الباب الثالث في شمائل تتعلق بالعادات والمعيشة، ط: مؤسسة الرسالة)
میں بحوالہ مسند احمد اور
"الأحاديث المختارة" للضياء المقدسي عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه "من المسلمين"
نقل کیا ہے ۔
لیکن مسند احمد میں دو جگہ یہ روایت حضرت ابو سعید الخدری رضي اللہ عنہ سے مذکور ہے، مگر دونوں جگہوں میں "
مسلمين"
ہے،
من المسلمين
کسی جگہ مذکور نہیں ہے، اور
"الأحاديث المختارة" للضياء المقدسي
میں یہ روایت ہمیں نہیں ملی ۔ حصن حصین کے مطبوعہ نسخوں میں بھی
"من"
مذکور ہے، البتہ ایک مخطوطہ دستیاب ہوا اس میں
"من"
مذکور نہیں ہے، اس مخطوطہ کے آخر میں مرقوم ہے:
سوَّده الفقير السيد عثمان المعروف بحافظ القرآن غفر الله له ولوالديه ولمن نظر فيه وقرأ، آمين، سنة اثنا وثمانون ومأة وألف من هجرة من له الشرف.

(۲) حدیث کی سند کے بارے میں سنن ابن ماجہ کی تعلیقات میں شیخ بشار عواد فرماتے ہیں:

إسناده ضعيف لجهالة مولي أبي سعيد، وحجاج هو ابن أرطاة مدلس، وقد عنعنه. وفي الحديث اختلاف كثير. (۵/۲٤).

شیخ شعیب نے مسند احمد کی تعلیقات میں فرمایا:
إسناده ضعيف، علته الجهالة والاضطراب.

معلوم ہوا کہ حدیث ضعیف ہے لیکن فضائل میں قابل عمل ہے ۔ البتہ کتاب الدعاء للطبرانی کی تعلیقات میں "
إسناده حسن"
فرمایا ہے ۔
راجع: (تعليقات كتاب الدعاء، ص ۳۰٦، رقم: ۸۹۸، باب: القول عند الفراغ من الطعام والشراب).

(۳) تیسری بات کہ
"وجعلنا مسلمين"
کا کھانے پینے سے کیا جوڑ ہے؟
اس جواب یہ ہے کہ اس کی تین حکمتیں سمجھ میں آتی ہیں:
(الف) کھانا پینا جسمانی غذا ہے اور اسلام روحانی غذا اور سببِ حیات ہے ۔
قال الله تعالى: ﴿يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم﴾
یعنی دین سببِ حیات ہے ۔ کفار کو قرآن کریم میں اموات اور مسلمانوں کو احیاء کہا گیا ہے، لہذا جسمانی غذا کے شکر کے بعد روحانی غذا کے شکر کا ذکر ہے۔
(ب) دوسری حکمت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ مسلم کے معنی تابعدار ہے، تو کھانے پینے کے آداب و احکام کی تابعداری بھی بڑی نعمت ہے جو قابل شکر ہے، مثلاً ہاتھ دھونا، بسم اللہ بڑھنا، خاص ہیئت کے ساتھ بیٹھنا، اکٹھے ہو کر کھانا، پلیٹ صاف کرنا وغیرہ۔
(ج) کھانا پینا چھوٹی نعمت ہے اور اسلام بڑی نعمت ہے تو اس میں چھوٹی نعمت سے بڑی نعمت کے شکر کی طرف انتقال ہے، جس کے شکریہ کی طرف اکثر ذہن منتقل نہیں ہوتا، تو کھانے پینے کے ضمن میں بڑی نعمت کا شکر بھی ادا کیا گیا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.